حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 839 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 839

839 چھٹی حالت پھر بعد اس کے وجود روحانی کا مرتبہ ششم ہے یہ وہی مرتبہ ہے جس میں مومین کی محبت ذاتیہ اپنے کمال کو پہنچ کر اللہ جل شانہ کی محبت ذاتیہ کو اپنی طرف کھینچتی ہے تب خدا تعالیٰ کی وہ محبت ذاتی مومن کے اندر داخل ہوتی ہے اور اس پر احاطہ کرتی ہے جس سے ایک نئی اور فوق العادت طاقت مومن کو ملتی ہے اور وہ ایمانی طاقت ایمان میں ایک ایسی زندگی پیدا کرتی ہے جیسے ایک قالب بے جان میں روح داخل ہو جاتی ہے بلکہ وہ مومن میں داخل ہو کر در حقیقت ایک روح کا کام کرتی ہے۔تمام قومی میں اس سے ایک نور پیدا ہوتا ہے۔اور روح القدس کی تائید ایسے مومن کے شامل حال ہوتی ہے کہ وہ باتیں اور وہ علوم جو انسانی طاقت سے برتر نہیں وہ اس درجہ کے مومن پر کھولے جاتے ہیں اور اس درجہ کا مومن ایمانی ترقیات کے تمام مراتب طے کر کے ان ظالی کمالات کی وجہ سے جو حضرت عزت کے کمالات سے اس کو ملتے ہیں آسمان پر خلیفتہ اللہ کا لقب پاتا ہے۔ایسا ہی اس درجہ کا مومن جو نہ صرف ترک نفس کرتا ہے بلکہ نفی وجود اور ترک نفس کے کام کو اس درجہ کے کمال تک پہنچاتا ہے کہ اس کے وجود میں سے کچھ بھی نہیں رہتا اور صرف آئینہ کے رنگ میں ہو جاتا ہے۔تب ذات الہی کے تمام نقوش اور تمام اخلاق اس میں مندرج ہو جاتے ہیں اور جیسا کہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ آئینہ جو ایک سامنے کھڑے ہو نیوالے منہ کے تمام نقوش اپنے اندر لے کر اس منہ کا خلیفہ ہو جاتا ہے اسی طرح ایک مومن بھی ظلمی طور پر ا اخلاق اور صفات الہیہ کو اپنے اندر لے کر خلافت کا درجہ حاصل کرتا ہے اور ظلمی طور پر الہی صورت کا مظہر ہو جاتا ہے اور جیسا کہ خدا غیب الغیب ہے اور اپنی ذات میں وراء الوراء ہے ایسا ہی یہ مومن کامل اپنی ذات میں غیب الغیب اور وراء الوراء ہوتا ہے۔دنیا اس حقیقت تک پہنچ نہیں سکتی۔کیونکہ وہ دنیا کے دائرہ سے بہت ہی دور چلا جاتا ہے۔(براہین احمدیہ پنجم۔رخ - جلد 21 صفحہ 242-241) خدا بدنبال راست آن بندگان کرام که از بهر شان می کند صبح و شام خدا کے نیک بندے ایسے بھی ہیں جن کے لیے خدا صبح و شام کو پیدا کرتا ہے۔بنگرند جہانے بدنبال خودم شند چشم چومے جب وہ کن آنکھیوں سے دیکھتے ہیں تو ایک جہان کو اپنے پیچھے کھینچ لیتے ہیں۔اثر هاست در گفتگو ہائے شاں چکد نور وحدت نے روہائے شاں ان کے کلام میں اثر ہوتا ہے اور ان کے چہروں سے توحید کا نور ٹپکتا ہے۔در اوشان به اظہار ہر خیر و شر خیر و شر نهادست حق خاصیت مسنتر ان میں نیکی اور بدی کے اظہار کے لیے خدا تعالیٰ نے مخفی خاصیت رکھ دی ہے۔بتن کسے اگر چہ خدا نیستند ولی از خدا ہم جدا نیستند اگر چہ کہنے کو وہ خدا نہیں ہیں۔لیکن خدا سے جدا بھی نہیں ہیں۔که او ظل یزداں بود قیاسش بخود جہل و طغیاں بود جو شخص خدا کاظل ہو اس کو اپنے پر قیاس کرنا جہالت اور سرکشی ہے۔( اخبار بدر جلد 8 نمبر 27 مورخہ 29 اپریل 1909ء ) ( در نشین فارسی صفحه 322)