حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 835 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 835

835 حقیقی زندگی کا حصول إِنَّهُ مَنْ يَّاتِ رَبَّهُ مُجُرمًا فَإِنَّ لَهُ جَهَنَّمَ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَى۔(طه: 75) کسی چیز کی بجز خدا کے کوئی ہستی نہیں محض خدا ہے جس کا نام ہست ہے پھر اس کے زیر سایہ ہو کر اور اس کی محبت میں محو ہو کر واصلوں کی روحیں حقیقی زندگی پاتی ہیں اور اس کے وصال کے بغیر زندگی حاصل نہیں ہوسکتی اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں کافروں کا نام مردے رکھتا ہے اور دوزخیوں کی نسبت فرماتا ہے إِنَّهُ مَنُ يَّاتِ رَبَّهُ مُجْرِمًا فَإِنَّ لَهُ جَهَنَّمَ ، لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَی (طه: 75)۔یعنی جو شخص مجرم ہونے کی حالت میں اپنے رب کو ملے گا اس کے لئے جہنم ہے۔نہ اس میں مرے گا نہ زندہ رہے گا یعنی اس لئے نہیں مرے گا کہ دراصل وہ تعبد ابدی کے لئے پیدا کیا گیا ہے لہذا اس کا وجو د ضروری ہے اور اس کو زندہ بھی نہیں کہہ سکتے کیونکہ حقیقی زندگی وصال الہی سے حاصل ہوتی ہے اور حقیقی زندگی عین نجات ہے اور وہ بجز عشق الہی اور وصال حضرت عزت کے حاصل نہیں ہو سکتی۔اگر غیر قوموں کو حقیقی زندگی کی فلاسفی معلوم ہوتی تو وہ کبھی دعویٰ نہ کرتے کہ تمام ارواح خود بخود قدیم سے اپنا وجود رکھتے ہیں اور حقیقی زندگی سے بہرہ ور ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ یہ علوم آسمانی ہیں اور آسمان سے ہی نازل ہوتے ہیں اور آسمانی لوگ ہی ان کی حقیقت کو جانتے ہیں اور دنیا ان سے بے خبر ہے۔چشمہ سیچی - ر- خ - جلد 20 صفحہ 366) امن کی راہ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّهَا۔(الشمس :10) نہایت امن کی راہ یہی ہے کہ انسان اپنی غرض کو صاف کرے اور خالصتاً رو بخدا ہو۔اس کے ساتھ اپنے تعلقات کو صاف کرے اور بڑھائے اور وجہ اللہ کی طرف دوڑے۔وہی اس کا مقصود اور محبوب اور تقویٰ پر قدم رکھ کر اعمال صالحہ بجالا وے پھر سنت اللہ اپنا کام آپ کرے گی۔اس کی نظر نتائج پر نہ ہو بلکہ نظر تو اسی ایک نقطہ پر ہو۔اس حد تک پہنچنے کے لئے اگر یہ شرط ہو کہ وہاں پہنچ کر سب سے زیادہ سزا ملے گی تب بھی اسی کی طرف جاوے۔یعنی کوئی ثواب یا عذاب اس کی طرف جانے کا اصل مقصد نہ ہو محض خدا تعالیٰ ہی اصل مقصد ہو۔جب وفاداری اور اخلاص کے ساتھ اس کی طرف آئے گا اور اس کا قرب حاصل ہوگا تو یہ وہ سب کچھ دیکھے گا جو ا سکے وہم و گمان میں بھی کبھی نہ گذرا ہوگا اور کشوف اور خواب تو کچھ چیز ہی نہ ہوں گے۔پس میں تو اس راہ پر چلانا چاہتا ہوں اور یہی اصل غرض ہے اسی کو قرآن شریف میں فلاح کہا گیا ہے۔قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّهَا۔( ملفوظات جلد پنجم صفحه 77)