حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 834
834 حصول معرفت کے تین مدارج إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْإِحْسَانِ وِايْتَايُّ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى۔الْفَحْشَاءِ وَ الْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ۔(النحل : 91) پہلے طور پر اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ تم اپنے خالق کے ساتھ اس کی اطاعت میں عدل کا طریق مرعی رکھو ظالم نہ بنو۔پس جیسا کہ در حقیقت بجز اس کے کوئی بھی پرستش کے لائق نہیں۔کوئی بھی محبت کے لائق نہیں۔کوئی بھی تو کل کے لائق نہیں کیونکہ بوجہ خالقیت اور قیومیت وربوبیت خاصہ کے ہر ایک حق اسی کا ہے اسی طرح تم بھی اس کے ساتھ کسی کو اس کی پرستش میں اور اس کی محبت میں اور اس کی ربوبیت میں شریک مت کرو۔اگر تم نے اس قدر کر لیا تو یہ عدل ہے جس کی رعایت تم پر فرض تھی۔پھر اگر اس پر ترقی کرنا چا ہو تو احسان کا درجہ ہے اور وہ یہ ہے کہ تم اس کی عظمتوں کے ایسے قابل ہو جاؤ اور اس کے آگے اپنی پرستشوں میں ایسے متادب بن جاؤ اور اس کی محبت میں ایسے کھوئے جاؤ کہ گو یا تم نے اس کی عظمت اور جلال اور اس کے حسن لا زوال کو دیکھ لیا ہے۔بعد اس کے ایتائی ذی القربی کا درجہ ہے اور وہ یہ ہے کہ تمہاری پرستش اور تمہاری محبت اور تمہاری ذِي فرماں برداری سے بالکل تکلف اور تصنع دور ہو جائے اور تم اس کو ایسے جگری تعلق سے یاد کرو کہ جیسے مثلا تم اپنے باپوں کو یاد کرتے ہو اور تمہاری محبت اس سے ایسی ہو جائے کہ جیسے مثلاً بچہ اپنی پیاری ماں سے محبت رکھتا ہے۔اور دوسرے طور پر جو ہمدردی بنی نوع سے متعلق ہے اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ اپنے بھائیوں اور بنی نوع سے عدل کرو اور اپنے حقوق سے زیادہ ان سے کچھ تعرض نہ کرو اور انصاف پر قائم رہو۔اور اگر اس درجہ سے ترقی کرنی چاہو تو اس سے آگے احسان کا درجہ ہے اور وہ یہ ہے کہ تو اپنے بھائی کی بدی کے مقابل نیکی کرے اور اس کی آزار کی عوض میں تو اس کو راحت پہنچاوے اور مروت اور احسان کے طور پر دستگیری کرے۔سو یہ اخلاقی ترقی کا آخری کمال ہے کہ ہمدردی خلائق میں کوئی نفسانی مطلب یا مدعا یا غرض درمیان نہ ہو بلکہ اخوت و قرابت انسانی کا جوش اس اعلیٰ درجہ پر نشو و نما پا جائے کہ خود بخود بغیر کسی تکلف کے اور بغیر پیش نہا در کھنے کسی قسم کے شکر گزاری یاد عایا اور کسی قسم کی پاداش کے وہ نیکی فقط فطرتی جوش سے صادر ہو۔(ازالہ اوہام -ر خ- جلد 3 صفحہ 552-550)