حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 823 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 823

823 ریاضتیں اور چلہ کشیاں وَرَهْبَانِيَّةَ نِ ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبُهَا عَلَيْهِمُ إِلَّا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رَعَايَتِهَا فَأَتَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا مِنْهُمْ أَجْرَهُمْ وَكَثِيرٌ مِنْهُمْ فَسِقُونَ (الحديد : 28) خطر ناک ریاضتیں کرنا اور اعضاء اور قوی کو مجاہدات میں بریکار کر دینا محض علمی بات اور لاحاصل ہے۔اسی لئے ہمارے ہادی کامل علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا لَا رَهْبَانِيَّةَ فِي الإسلام یعنی جب انسان کو صفت اسلام گردن نهادن بر حکم خدا و موافقت تامہ بمقادیر الہیہ ) میسر آ جائے تو پھر رہبانیت یعنی اسے مجاہدوں اور ریاضتوں کی کوئی ضرورت نہیں۔یہی وجہ ہے کہ اسلام نے رہبانیت کو نہیں رکھا اس لئے کہ وہ معرفت تامہ کا ذریعہ نہیں ہے۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 214) رہبانیت اور اباحت انسان کو اس صدق اور وفا سے دور رکھتے تھے جو اسلام پیدا کرنا چاہتا ہے اس لئے ان سے الگ رکھ کر اطاعت الہی کا حکم دے کر صدق اور وفا کی تعلیم دی جو ساری روحانی لذتوں کی جاذب ہیں۔( ملفوظات جلد دوم صفحه 700) لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَّلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ۔(النور: 38) ہم یہ نہیں کہتے کہ زراعت والا زراعت کو اور تجارت والا تجارت کو۔ملا زمت والا ملا زمت کو اور صنعت و حرفت والا اپنے کاروبار کو ترک کر دے اور ہاتھ پاؤں تو ڑ کر بیٹھ جائے بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَّلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللهِ والا معاملہ ہو۔دست با کار دل بایار والی بات ہو۔تاجر اپنے کاروبار تجارت میں اور زمیندار اپنے امور زراعت میں اور بادشاہ اپنے تخت حکومت پر بیٹھ کر۔غرض جو جس کام میں ہے اپنے کاموں میں خدا کو نصب العین رکھے اور اس کی عظمت اور جبروت کو پیش نظر رکھ کر اس کے احکام اور اوامر و نواہی کا لحاظ رکھتے ہوئے جو چاہے کرے۔اللہ سے ڈر اور سب کچھ کر۔اسلام کہاں ایسی تعلیم دیتا ہے کہ تم کاروبار چھوڑ کر لنگڑے کولوں کی طرح لکھے بیٹھ رہو اور بجائے اس کے اوروں کی خدمت کرو خود دوسروں پر بوجھ بن نہیں بلکہ ست ہونا گناہ ہے۔بھلا ایسا آدمی پھر خدا اور اس کے دین کی کیا خدمت کر سکے گا۔عیال واطفال جو خدا نے اس کے ذمے لگائے ہیں ان کو کہاں سے کھلائے گا۔پس یا درکھو کہ خدا کا یہ ہرگز منشاء نہیں کہ تم دنیا کو بالکل ترک کر دو بلکہ اس کا جو منشا ہے وہ یہ ہے کہ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زكها (الشمس: 10) تجارت کرو زراعت کرو ملازمت کرو اور حرفت کرو۔جو چا ہو کر دیگر نفس کو خدا کی نافرمانی سے روکتے رہواور ایسا تزکیہ کرو کہ یہ امور تمہیں خدا سے غافل نہ کر دیں پھر جو تمہاری دنیا ہے وہ بھی دین کے حکم میں آجاوے گی۔انسان دنیا کے واسطے پیدا نہیں کیا گیا۔دل پاک ہو اور ہر وقت یہ لو اور تڑپ لگی ہوئی ہو کہ کسی طرح خدا خوش ہو جائے تو پھر دنیا بھی اس کے واسطے حلال ہے۔إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ۔(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 550)