حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 784 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 784

784 نزول متصوفین کے مذاق کے موافق صعود اور نزول کے ایک خاص معنے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ جب انسان خلق اللہ سے بکلی انقطاع کر کے خدائے تعالیٰ کی طرف جاتا ہے تو اس حالت کا نام متصوفین کے نزدیک صعود ہے اور جب مامور ہو کر نیچے کو اصلاح خلق اللہ کے لئے آتا ہے تو اس حالت کا نام نزول ہے۔اسی اصطلاحی معنی کے لحاظ سے نزول کا لفظ اختیار کیا گیا ہے۔اسی کی طرف اشارہ ہے جو اس آیت میں اللہ جل شانہ فرماتا ہے کہ بِالْحَقِّ أَنْزَلْنَهُ وَ بِالْحَقِّ نَزَلَ۔(بنی اسرائیل : 106) (ازالہ اوھام۔ر۔خ۔جلد 3 صفحہ 420) خروج اور نزول دابتہ الارض یعنی وہ علماء و واعظین جو آسمانی قوت اپنے اندر نہیں رکھتے ابتداء سے چلے آتے ہیں لیکن قرآن کا مطلب یہ ہے کہ آخری زمانہ میں ان کی حد سے زیادہ کثرت ہوگی اور ان کے خروج سے مراد وہی ان کی کثرت ہے۔اور یہ نکتہ بھی یادر کھنے کے لائق ہے کہ جیسی ان چیزوں کے بارے میں جو آسمانی قوت اپنے اندر نہیں رکھتیں اور آخری زمانہ میں پورے جوش اور طاقت کے ساتھ ظہور کریں گی خروج کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ایسا ہی اس شخص کے بارے میں جو حدیثوں میں لکھا ہے کہ آسمانی وحی اور قوت کے ساتھ ظہور کر یگا نزول کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔سوان دونوں لفظوں خروج اور نزول میں در حقیقت ایک ہی امر مد نظر رکھا گیا ہے۔یعنی اس بات کا سمجھانا منظور ہے کہ یہ ساری چیزیں جو آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والی ہیں باعتبار اپنی قوت ظہور کے خروج اور نزول کی صفت سے متصف کی گئی ہیں جو آسمانی قوت کے ساتھ آنے والا تھا اس کو نزول کے لفظ سے یاد کیا گیا اور جوز مینی قوت کے ساتھ نکلنے والا تھا اس کو خروج کے لفظ کے ساتھ پکارا گیا تا نزول کے لفظ کے ساتھ آنے والے کی ایک عظمت سمجھی جائے اور خروج کے لفظ سے ایک خفت اور حقارت ثابت ہو اور نیز یہ بھی معلوم ہو کہ نازل خارج پر غالب ہے۔(ازالہ اوھام -ر خ- جلد 3 صفحہ 373-374) يبَنِي آدَمَ قَدْ أَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَارِي سَوَاتِكُمْ وَرِيشَاء وَلِبَاسُ التَّقْوى ذَلِكَ خَيْرٌ ذَلِكَ مِنْ ايَتِ اللهِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ۔(الاعراف: 27) ثم انظرانه تعالى قال فى مقام آخر قد انزلنا عليكم۔لباسا و قال انزلنا الحديد و انزل لكم من الانعام۔ومعلوم ان هذه الاشياء لا تنزل من السماء فما عزاها الله اليها الا اشارة الى ان العلة الاولى من العلل التى قدر الله تعالى لخلق تلک الاشیاء و تولدها و تكونها تاثيرات فلكية و شمسية و قمرية و نجومية و اشار عز وجل فى هذه الايات الى ان الارض كامراة والسماع كبعلها ولا يتم فعل احدها الا بالاخرى فزو جهما حكمة من عنده وكان الله عليما حكيما۔حمامة البشرکی۔ر۔خ۔جلد 7 صفحہ 289)