حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 732 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 732

732 ترجمہ از مرتب : حق بات یہ ہے کہ فرشتے بنی آدم کے دلوں پر اترتے ہیں اور اسی طرح شیاطین بھی پس جب اللہ تعالیٰ کسی مصلح یعنی رسول نبی یا محدث کو دنیا میں مبعوث کرنے کا ارادہ فرماتا ہے تو وہ فرشتوں کے نزول کو قوت دیتا ہے اور لوگوں کی استعدادوں کو قبول حق کے قریب کر دیتا ہے اور انہیں عقل، فہم، ہمت اور مصائب کو برداشت کرنے والی قوت عطا کرتا ہے اور فہم قرآن کا وہ نور بخشتا ہے جو اس مصلح کے ظہور سے قبل انہیں حاصل نہیں تھا۔بس ذہن صاف ہو جاتے ہیں اور عقلیں تقویت پکڑتی ہیں اور ہمتیں بلند ہو جاتی ہیں اور ہر شخص یوں محسوس کرتا ہے کہ گویا اسے نیند سے بیدار کر دیا گیا ہے اور یہ کہ غیب سے ایک نور اس کے قلب پر نازل ہورہا ہے اور کوئی معلم اس کے خود اندر سے کھڑا ہو گیا ہے اور لوگوں کی حالت ایسی ہو جاتی ہے کہ گویا اللہ تعالیٰ نے ان کے مزاج اور ان کی طبیعت کو بدل دیا ہے اور ان کے اذہان اور افکار کو تیز کر دیا ہے۔پس جب یہ علامات ظاہر ہو جائیں اور سب کی سب جمع ہو جائیں تو وہ اس بات پر قطعی دلالت کریں گی کہ مجد داعظم ظاہر ہو گیا ہے اور نازل ہونے والا نو را تر آیا ہے۔حمامة البشرکی۔ر۔خ۔جلد 7 صفحہ 319) اپنے منہ سے کوئی مرتبہ انسان کو نہیں مل سکتا جب تک آسمانی نور اس کے ساتھ نہ ہو۔اور جس علم کے ساتھ آسمانی نور نہیں وہ علم نہیں وہ جہل ہے۔وہ روشنی نہیں وہ ظلمت ہے۔وہ مغز نہیں وہ استخواں ہے۔ہمارا دین آسمان سے آیا ہے اور وہی اسکو سمجھتا ہے جو وہ بھی آسمان سے ہی آیا ہو۔کیا خدا تعالیٰ نے نہیں فرمایا لا يــــمــــــه الا المطهرون (الواقعة: 80) میں قبول نہیں کروں گا اور ہر گز نہیں مانوں گا کہ آسمانی علوم اور ان کے اندرونی بھید اور ان کے تہ در تہ چھپے ہوئے اسرا رز مینی لوگوں کو خود بخود آ سکتے ہیں۔زمینی لوگ دابتہ الارض ہیں مسیح السماء نہیں ہیں۔مسیح السماء آسمان سے اترتا ہے اور اس کا خیال آسمان کو سح کر کے آتا ہے اور روح القدس اس پر نازل ہوتا ہے اس لئے وہ آسمانی روشنی ساتھ رکھتا ہے۔لیکن دابتہ الارض کے ساتھ زمین کی غلاظتیں ہوتی ہیں اور نیز وہ انسان کی پوری شکل نہیں رکھتا بلکہ اس کے بعض اجزاء مسخ شدہ بھی ہوتے ہیں۔اسی وجہ سے میں نے کہا تھا کہ آپ ناراض نہ ہوں۔آپ دین کے حقیقی علم سے بے خبر ہیں۔خدا تعالے آپ کے ہر یک تکبر کو توڑو دے گا اور آپ کا چہرہ آپ کو دکھلا دے گا۔(ازالہ اوہام -ر خ- جلد 3 صفحہ 574-573) مبارک وہ جس نے مجھے پہچانا۔میں خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہ ہوں اور میں اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں۔بدقسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔(کشتی نوح۔ر۔خ۔جلد 19 صفحہ 77)