حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 47
47 آنکه أورا ظلمت شخص حقیقت مثیل اور ظلّ انبیاء براه نیستش چون روئے احمد مہر و ماہ جسے تاریکی گھیر لے اس کیلئے احمد کے چہرہ کی طرح اور کوئی چاند سورج نہیں ہے ستا بعش بحر معانی کہ در راه محمد زد قدم از زمینی آسمانی شود اس کا پیرو معرفت کا ایک سمندر بن جاتا ہے اور زمینی سے آسمانی آسمانی ہو جاتا ہے زد قدم انبیاء راشد مثیل آں محترم جس نے محمد کے طریقہ پر قدم مارا وہ قابل عزت شخص نبیوں کا مثیل بن جاتا ہے تو عجب داری ز فوز این مقام پائی بند نفس گشته صبح و شام ہے کیونکہ تو ہر وقت اپنے نفس کا غلام ہے تو اس درجہ کی کامیابی پر تعجب کرتا بروز کی حقیقت پھر بروز کے متعلق سلسلہ کلام یوں شرع ہوا۔فرمایا: (ضیاء الحق۔رخ جلد 9 صفحہ 255 254) نیکوں اور بدوں کے بروز ہوتے ہیں نیکوں کے بروز میں جو موعود ہے وہ ایک ہی ہے یعنی مسیح موعود۔ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ (الفات : 7-6) سے نیکیوں کا بروز اور ضالین سے عیسائیوں کا بروز اور مَغضُوبِ سے یہودیوں کا بروز مراد ہے اور یہ عالم بروزی صفت میں پیدا کیا گیا ہے جیسے پہلے نیک یا بد گزرے ہیں ان کے رنگ اور صفات کے لوگ اب بھی ہیں خدا تعالیٰ ان اخلاق اور صفات کو ضائع نہیں کرتا۔ان کے رنگ میں اور آجاتے ہیں جب یہ امر ہے تو ہمیں اس سے انکار نہیں ہوسکتا کہ ابرار اور اختیار اپنے اپنے وقت پر ہوتے رہیں گے اور یہ سلسلہ قیامت تک چلا جاوے گا جب یہ سلسلہ ختم ہو جاوے گا تو دنیا کا بھی خاتمہ ہے لیکن وہ موعود جس کے سپر عظیم الشان کام ہے وہ ایک ہی ہے کیونکہ جس کا وہ بروز ہے یعنی محمد ہے وہ بھی ایک ہی ہے۔( ملفوظات جلد دوم صفحه 460) هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّنَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمُ ايَتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ ، وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَلٍ مُّبِينٌه وَاخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ ، وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (الجمعة: 4،3) اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کے بڑے فائدے دو ہیں جن کے پہنچانے کیلئے آنحضرت علی تشریف لائے ایک حکمت فرقان یعنی معارف و دقائق قرآن۔دوسری تاثیر قرآن جو موجب تزکیہ نفوس ہے اور قرآن کی حفاظت صرف اسی قدر نہیں جو اس کے صحف مکتو بہ کو خوب نگہبانی سے رکھیں کیونکہ ایسے کام تو اوائل حال میں یہود اور نصاری نے بھی کئے یہاں تک کہ توریت کے نقطے بھی گن رکھے تھے بلکہ اس جگہ مع حفاظت ظاہری فوائد و تاثیرات قرآنی مراد ہیں اور وہ موافق سنت اللہ کے تبھی ہوسکتی ہے کہ جب وقتا فوقتا نائب رسول آویں جن میں ظلی طور پر رسالت کی تمام نعمتیں موجود ہوں اور جن کو وہ تمام برکات دی گئی ہوں جو نبیوں کو دی جاتی ہوں۔شہادت القرآن - رخ جلد 6 صفحہ 338)