حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 722
722 حضرت اقدس کا فہم قرآن وحی الہی اور الہام کی تائید کے ساتھ ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام :۔یہ خدا کا بڑا افضل ہے اور خوش قسمتی آپ کی ہے کہ آپ ادھر آ نکلے۔یہ بات واقعی سچ ہے کہ جو مسلمان ہیں یہ قرآن شریف کو بالکل نہیں سمجھتے لیکن اب خدا کا ارادہ ہے کہ صحیح معنے قرآن کے ظاہر کرے خدا نے مجھے اسی لیے مامور کیا ہے اور میں اس کے الہام اور وحی سے قرآن شریف کو سمجھتا ہوں قرآن شریف کی ایسی تعلیم ہے کہ اس پر کوئی اعتراض نہیں آسکتا۔اور معقولات سے ایسی پر ہے کہ ایک فلاسفر کو بھی اعتراض کا موقعہ نہیں ملتا مگر ان مسلمانوں نے قرآن کریم کو چھوڑ دیا ہے اور اپنی طرف سے ایسی ایسی باتیں بنا کر قرآن شریف کی طرف منسوب کرتے ہیں جس سے قدم قدم پر اعتراض وارد ہوتا ہے اور ایسے دعاوی اپنی طرف سے کرتے ہیں جن کا ذکر قرآن شریف میں نہیں ہے اور وہ سراسر اس کے خلاف ہیں مثلاً اب یہی واقعہ صلیب کو دیکھو کہ اس میں کسقد را افتراء سے کام لیا گیا ہے اور قرآن کریم کی مخالفت کی گئی ہے اور یہ بات عقل کے بھی خلاف ہے اور قرآن کے بھی برخلاف ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 451-450) گندم از گندم بروید جو ز جو از مکافات عمل غافل مشو گندم، گندم سے اور جو ، جو سے اگتی ہے۔اعمال کے نتائج سے غافل نہ ہو جاؤ میں اس بصیرت کے مقابل پر جو مجھے آسمان سے عطا کی گئی ہے ان سفلی ملاؤں کو سراسر بے بصر سمجھتا ہوں اور بخدا ایک مرے ہوئے کیڑے کے برابر بھی میں انھیں خیال نہیں کرتا۔کیا کوئی زندہ مردوں سے ڈرا کرتا ہے۔یقیناً سمجھو کہ علم دین ایک آسمانی بھید ہے اور وہی کما حقہ آسمانی بھید جانتا ہے جو آسمان سے فیض پاتا ہے جو خدائے تعالیٰ تک پہنچتا ہے وہی اسکی کلام کے اسرار عمیقہ تک بھی پہنچتا ہے جو پوری روشنی میں نشست رکھتا ہے وہی ہے جو پوری بصیرت بھی رکھتا ہے۔آسمانی فیصلہ۔رخ۔جلد 4 صفحہ 321-320)