حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 714 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 714

714 عادت اللہ کی حکمت سچ ہے کہ قرآن شریف ان کے پاس تھا اور قرآن شریف اس ذوالفقار تلوار کی مانند ہے جس کے دو طرف دھاریں ہیں ایک طرف کی دھار مومنوں کی اندرونی غلاظت کو کاٹتی ہے اور دوسری طرف کی دھار دشمنوں کا کام تمام کرتی ہے مگر پھر بھی وہ تلوار اس کام کے لئے ایک بہادر کے دست و بازو کی محتاج ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا يَتْلُوا عَلَيْهِمُ ايتِهِ وَيُزَكِّيْهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ (الجمعة: 3) پس قرآن سے جوتز کیہ حاصل ہوتا ہے اس کو اکیلا بیان نہیں کیا۔بلکہ وہ نبی کی صفت میں داخل کر کے بیان کیا یہی وجہ ہے کہ خدا تعالے کا کلام یوں ہی آسمان پر سے کبھی نازل نہیں ہوا بلکہ اس تلوار کو چلانے والا بہادر ہمیشہ ساتھ آیا ہے جو اس تلوار کا اصل جو ہر شناس ہے لہذا قرآن شریف پر سچا اور تازہ یقین دلانے کیلئے اور اس کے جوہر دکھلانے کے لئے اور اس کے ذریعہ سے اتمام حجت کرنے کیلئے ایک بہادر کے دست و بازو کی ہمیشہ حاجت ہوتی رہی ہے اور آخری زمانہ میں یہ حاجت سب سے زیادہ پیش پیش آئی کیونکہ دجالی زمانہ ہے اور زمین و آسمان کی باہمی لڑائی ہے۔( نزول مسیح جلد 18 صفحہ 468-469) قرآن شریف اگر چہ عظیم الشان معجزہ ہے مگر ایک کامل کے وجود کو چاہتا ہے کہ جو قرآن کے اعجازی جواہر پر مطلع ہو اور وہ اس تلوار کی طرح جو در حقیقت بینظیر ہے لیکن اپنا جو ہر دکھلانے میں ایک خاص دست و بازو کی محتاج ہے اس پر دلیل شاہد یہ آیت ہے کہ لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعة:80) پس وہ ناپاکوں کے دلوں پر معجزہ کے طور پر اثر نہیں کر سکتا بجز اس کے کہ اس کا اثر دکھلانے والا بھی قوم میں ایک موجود ہو اور وہ وہی ہوگا جس کو یقینی طور پر نبیوں کی طرح خدا تعالیٰ کا مکالمہ اور مخاطبہ نصیب ہوگا۔نزول المسیح - ر-خ- جلد 18 صفحہ 486) هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّنَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمُ ايتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَ إِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَلٍ مُّبِينَ۔(الجمعة: 3) ترجمہ :۔وہی ہے جس نے بھیجا امیوں میں رسول انہی میں سے کہ پڑھتا ہے ان پر اس کی آیات اور پاک کرتا ہے ان کو اور سکھاتا ہے ان کو کتاب اور حکمت اور یقیناً تھے وہ پہلے اس سے البتہ گمراہی ظاہر میں اور۔اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ قران کے بڑے فائدے دو ہیں جن کے پہنچانے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ایک حکمت فرقان یعنی معارف و دقائق قرآن دوسری تاثیر قرآن جو موجب تزکیہ نفوس ہے اور قرآن کی حفاظت صرف اسی قدر نہیں جو اس کے صحف مکتو بہ کو خوب نگہبانی سے رکھیں کیونکہ ایسے کام تو اوائل حال میں یہود اور نصاری نے بھی کئے یہاں تک کہ توریت کے نقطے بھی گن رکھے تھے بلکہ اس جگہ مع حفاظت ظاہری فوائد و تا ثیرات قرآنی مراد ہیں اور وہ موافق سنت اللہ کے تبھی ہو سکتی ہے کہ جب وقتاً فوقتاً رسول آویں جن میں ظلمی طور پر رسالت کی تمام نعمتیں موجود ہوں اور جن کو وہ تمام برکات دی گئی ہوں جو نبیوں کو دی جاتی ہوں۔( شہادت القرآن۔ر-خ- جلد 6 صفحہ 338)