حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 711 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 711

711 پہلی فصل ارسال انبیاء اور فہم قرآن ارسال انبیاء۔عادت اللہ ہے اللہ جلشانہ خود قرآن کریم میں فرماتا ہے وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ وَقَفَّيْنَا مِنْ بَعْدِهِ بِالرُّسُلِ (البقرة : 88) یعنی موسیٰ کو ہم نے توریت دی اور پھر اس کتاب کے بعد ہم نے کئی پیغمبر بھیجے تا توریت کی تائید اور تصدیق کریں۔اسی طرح دوسری جگہ فرماتا ہے ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتُرَا (المومنون:45) یعنی پھر پیچھے سے ہم نے اپنے رسول پے در پے بھیجے۔پس ان تمام آیات سے ظاہر ہے کہ عادت اللہ یہی ہے کہ وہ اپنی کتاب بھیج کر پھر اسکی تائید اور تصدیق کیلئے ضرور انبیاء کو بھیجا کرتا ہے چنانچہ توریت کی تائید کیلئے ایک ایک وقت میں چار چار سو نبی بھی آیا۔جن کے آنے پر اب تک بائییل شہادت دے رہی ہے۔( شہادت القرآن۔ر۔خ۔جلد 6 صفحہ 341-340) من والصلوة والسلام على خاتم الرسل الذى اقتضى ختم نبوته۔ان تبعث مثل الانبياء امته۔و ان تنور وتثمر الى انقطاع هذا العالم اشجاره۔ولا تعفى اثاره۔ولا تغيب تذكاره۔فلاجل ذلك جرت عادة الله انه يرسل عباد امن الذين استطا بهم لتجديد هذا الدين۔و يعطيهم من عنده علم اسرار القرآن ويبلغهم الى حق اليقين ليظهروا معارف الحق على الخلق بسلطانها۔وقوتها ولمعانها۔ويبينوا حقيقتها وهويتها و سبلها و اثار عرفانها۔ويخلصوا الناس من البدعات والسيئات وطوفانها وطغيانها۔و ليقيموا الشريعة ويفرشوا بساطها۔ويبسطوا انماطها۔ويزيلواتفريطها و افراطها۔واذا اراد الله لاهل الارض ان يصلح دينهم۔وينير براهينهم۔اوينصرهم عند حلول الاهوال والمصائب والأفات اقام بينهم احدا من هذه السادات۔اور صلوۃ اور سلام خاتم رسل پر جس کی نبوت کے ختم نے چاہا کہ آپ کی امت سے نبیوں کی مانند لوگ پیدا ہوں۔اور آپ کے درخت زمانہ کے آخر تک پھلتے پھولتے رہیں اور نہ آپ کے نشان مٹائے جائیں۔اور نہ آپ کی یاد دنیا سے بھول جائے۔اسی لئے خدا کی عادت ہے کہ وہ ایسے بندوں کو بھیجا کرتا ہے جنھیں اس دین کی تجدید کے لئے پسند فرمالیتا ہے اور انھیں اپنے حضور سے قرآن کے اسرار عطا کرتا۔اور حق الیقین تک پہنچاتا ہے۔اسلئے کہ وہ لوگوں پر حق کے معارف کو پوری قوت اور غلبہ اور چمک کے رنگ میں ظاہر کریں۔اور ان معارف کی حقیقت اور کیفیت اور راہوں اور انکی شناخت کے نشانوں کو بیان کریں۔اور لوگوں کو بدعتوں اور بدکرداریوں سے اور انکے طوفان وطغیان سے چھڑائیں۔اور شریعت کو قائم کریں اور اسکی بساط کو بچھائیں اور افراط و تفریط کو جو اس میں داخل کی گئی ہے دور کریں۔اور جب خدا اہل زمین کے لئے چاہتا ہے کہ انکے دین کو سنوارے اور ان کے برہانوں کو روشن کرے اور ہول اور مصیبت کے پیش آنے پر ان کو مدد دے۔تب ان بزرگوں میں سے کسی کو ان میں کھڑا کر دیتا ہے۔الھدی -ر خ- جلد 18 صفحہ 248-247)