حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 41 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 41

41 حضرت اقدس اس زمانے کا نور ہیں آمدم چون سحر بلجہ نور تا شود تیر کی زنورم کی وجہ ہو دور یں اور کا ایک طوان لے کر ی کی طرح ہی ہوں تاکہ سی اند مرا میرے نور کی جب سے دور ہوجائے صبح بہ افکنده ام که تا زین گردد ز خواب خود بیدار میں نے شور برپا کر رکھا ہے تا کہ اس کی وجہ سے خلقت اپنی نیند سے بیدار ہو جائے باد بہار آمده غافلان من نه یار آمده ام بیچو اے غافلو میں محبوب کے پاس سے آیا ہوں اور باد بہار کی طرح آیا ہوں ایں زمانم زمانه ام موسم لاله زار و وقت بہار یراز مانه گلزار کا زمانہ ہے یعنی لالہ زار کا موسم اور بہار کا وقت ہے در تین فارینا ایڈیشن صفحہ 251) ( نزول مسی - ر خ جلد 18 صفحہ 478) اس تاریکی کے زمانے کا نور میں ہی ہوں۔جو شخص میری پیروی کرتا ہے وہ ان گڑھوں اور خندقوں سے بچایا جائے گا جو شیطان نے تاریکی میں چلنے والوں کے لئے تیار کئے ہیں۔مجھے اس نے بھیجا ہے کہ تا میں امن اور حلم کے ساتھ دنیا کو سچے خدا کی طرف رہبری کروں اور اسلام میں اخلاقی حالتوں کو دوبارہ قائم کر دوں۔اور مجھے اس نے حق کے طالبوں کی تسلی پانے کے لئے آسمانی نشان بھی عطا فرمائے ہیں اور میری تائید میں اپنے عجیب کام دکھلائے ہیں۔اور غائب کی باتیں اور آئندہ کے بھید جو خدا تعالیٰ کی پاک کتابوں کی رو سے صادق کی شناخت کے لئے اصل معیار ہے میرے پر کھولے ہیں اور پاک معارف اور علوم مجھے عطا فرمائے ہیں اس لئے اُن روحوں نے مجھ سے دشمنی کی جو سچائی کو نہیں چاہتیں اور تاریکی سے خوش ہیں مگر میں نے چاہا کہ جہاں تک مجھ سے ہو سکے نوع انسان کی ہمدردی کروں۔( مسیح ہندستان میں۔رخ جلد 15 صفحہ 13 اس بات کو بھی دل سے سنو کہ میرے مبعوث ہونے کی علت غائی کیا ہے! میرے آنے کی غرض اور مقصود صرف اسلام کی تجد ید اور تائید ہے۔اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ میں اسلئے آیا ہوں کہ کوئی نئی شریعت سکھاؤں یا نئے احکام دوں یا کوئی نئی کتاب نازل ہو گی۔ہر گز نہیں اگر کوئی شخص یہ خیال کرتا ہے تو میرے نزدیک وہ سخت گمراہ اور بے دین ہے۔آنحضرت ﷺ پر شریعت اور نبوت کا خاتمہ ہو چکا ہے۔اب کوئی شریعت نہیں آسکتی۔قرآن مجید خاتم الکتب ہے۔اس میں اب ایک شعہ یا نقطہ کی کمی بیشی کی گنجائش نہیں ہے۔ہاں یہ بیچ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے برکات اور فیوضات اور قرآن شریف کی تعلیم اور ہدایت کے ثمرات کا خاتمہ نہیں ہو گیا۔وہ ہر زمانہ میں تازہ بتازہ موجود ہیں اور انہیں فیوضات اور برکات کے ثبوت کے لئے خدا تعالیٰ نے مجھے کھڑا کیا ہے۔لیکچر لدھیانہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 279) میں وہ پانی ہوں کہ آیا آسماں سے وقت پر میں وہ ہوں نورِ خُدا جس سے ہوا دن آشکار ( در مشین اردو صفحه 137 ) ( براہین احمدیہ حصہ پنجم۔رخ جلد 21 صفحہ 145) ہم نے اسلام کو خود تجربہ کر کے دیکھا نور ہے نور اٹھو دیکھو سنایا ہم نے اور دینوں کو جو دیکھا تو کہیں نور نہ تھا وکھلائے اگر حق کو چھپایا ہم نے آؤ لوگو کہ یہیں نور خدا پاؤ گے کوئی۔لو تمہیں طور تسلی کا بتایا ہم نے آج ان نوروں کا اک زور ہے اس عاجز میں دل کو ان نوروں کا ہر رنگ ولایا ہم نے جب سے یہ نور ملا نور پیمبر سے ہمیں ذات سے حق کے وجود اپنا ملایا ہم نے ( آئینہ کمالات اسلام۔رخ جلد 5 صفحہ 224 225)