حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 642
642 ترجمہ :۔نیز یہ امر اعلیٰ بدیہات میں سے ہے کہ ایک ابدی شریعت کبری اور ساری دنیا پر محیط امت اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ وہ (شریعت) تمام زبانوں سے اکمل زبان میں نازل ہو اور وہ وسیع الظرف ہو۔خصوصاً وہ شریعت جس نے ایک ایسی کتاب کو پیش کیا جس میں بلاغت و فصاحت اعجاز موجود ہے۔اور وہ سب زبانوں اور تمام جہاں سے اپنی عبارتوں کی نظیر پیش کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔سو تو جانتا ہے کہ یہ اعجاز زبان کے کمال کا محتاج ہوتا ہے اور تقاضا کرتا ہے کہ اس کا ظرف ویسا ہی وسیع ہو جیسا انسانی قومی کا۔زبان متاع بیان کے لئے ایک برتن اور عرفان کے موتیوں کے لئے ایک صدف کی مانند ہوتی ہے۔پس اگر ہم یہ فرض کر لیں کہ دوسری زبان عربی زبان سے زیادہ کامل ہے تو اس سے لازماً ہمیں یہ اقرار کرنا پڑے گا کہ وہ زبان بلاغت کے جملہ میدانوں میں اس زبان سے آگے بڑھی ہوئی ہے اور وہ معارف دینیہ کی حسن ادا ئیگی میں زیادہ انسب واولی ہے۔اس طرح گویا ( نعوذ باللہ ) اللہ نے اس افضل زبان کو تو چھوڑ دیا اور قرآن کو اس ناقص زبان میں نازل کر دیا سواے بھولے مسکین ! توبہ کر اور نفس امارہ کی خواہشات کی پیروی نہ کر۔عربی زبان کا علم فہم قرآن کی کنجی ہے هذا شرط بینی و بینکم۔فسنوا انفسكم۔ثم انتم تعلمون ان فضيلة العلماء باللسان العربية۔وهي المفتاح لفتح اسرار العلوم الدينية۔وهي مدار فهم المعارف الفرقانية۔و الذى ليس من نحارير الادباء و لاكمثل نوابغ الشعراء فلايمكن ان يكون من فحول الفقهاء۔و الراسخين في الشريعة الغراء او من العارفين الفقراء۔بل هو كالانعام۔واحد من العوام و الجاهلين۔ترجمہ :- یہ میرے اور تمہارے درمیان شرط ہے۔پس اپنے آپ کو بلند کرو۔پھر تم یہ بھی جانتے ہو کہ علماء کی فضیلت عربی زبان سے وابستہ ہے اور یہ ( زبان ) دینی علوم کے رموز کھولنے کی ایک کنجی اور معارف قرآنی کو سمجھنے کے لئے ایک مدار ہے۔جو شخص ماہرین علم ادب میں سے نہیں اور نہ ہی وہ نابغہ روزگار شعراء جیسا ہے تو ایسے شخص کے لئے ممکن نہیں کہ اس کا فقہاء کے مردان کرمیں اور شریعت غراء میں راسخ علم رکھنے والوں میں یا صاحبانِ عرفان فقراء میں شمار ہو۔بلکہ وہ شخص تو چو پاؤں جیسا ہے اور جاہل عوام الناس میں سے ہے۔( انجام انتم۔رخ جلد 11 صفحہ 265) پس اگر یہ کہیں کہ انسان کا کلام خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں تو یہ کہنا پڑے گا کہ انسان کی انسانیت خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں لیکن ظاہر ہے کہ خدا انسان کا خالق ہے اس لئے زبان کا معلم بھی وہی ہے اور اس جھگڑے کے فیصلے کے لئے کہ وہ کس زبان کا معلم ہے ابھی ہم لکھ چکے ہیں کہ اس کی طرف سے وہی زبان ہے کہ جو بموجب منطوق و ما خلقت الجن والانس الاليعبدون (الذريت : 57) اسی طرح معرفت الہی کی خادم