حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 641 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 641

641 پہلی فصل عربی الہامی زبان ہے عربی زبان کی اہمیت یہ بات ماننی پڑتی ہے کہ یہ زبان نہ صرف ام الالسنہ ہے بلکہ الہی زبان ہے جو خدا تعالیٰ کے خاص ارادہ اور الہام سے پہلے انسان کو سکھائی گئی اور کسی انسان کی ایجاد نہیں اور پھر اس بات کا نتیجہ کہ تمام زبانوں میں سے الہامی زبان صرف عربی ہی ہے یہ مانا پڑتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی اکمل اور اتم وحی نازل ہونے کے لئے صرف عربی زبان ہی مناسبت رکھتی ہے کیونکہ یہ نہایت ضروری ہے کہ کتاب الہی جو تمام قوموں کی ہدایت کے لئے آئی ہے وہ الہامی زبان میں ہی نازل ہو اور ایسی زبان میں ہو جو ام الالسنہ ہوتا اس کو ہر یک زبان اور اہل زبان سے ایک فطری مناسبت ہو اور تا وہ الہامی زبان ہونے کی وجہ سے وہ برکات اپنے اندر رکھتی ہو جو اُن چیزوں میں ہوتی ہیں جو خدا تعالیٰ کے مبارک من الرحمن - ر - خ - جلد 9 صفحہ 129 ) ہاتھ سے نکلتی ہیں۔جس ذات کامل نے انسان اور اس کے خیالات کو پیدا کیا اسی نے ان خیالات کے ادا کرنے کے لئے قدیم سے وہ مفردات بھی پیدا کر دیئے اور ہمارا دلی انصاف اس بات کے قبول کرنے کے لئے ہمیں مجبور کرتا ہے کہ اگر یہ خصوصیت کسی زبان میں پائی جائے کہ وہ زبان انسانی خیالات کے قدوقامت کے موافق مفردات کا خوبصورت پیرا یہ اپنے اندر طیار رکھتی ہے اور ہر یک بار یک فرق جو افعال میں پایا جاتا ہے وہی بار یک فرق اقوال کے ذریعہ سے دکھاتی ہے اور اس کے مفردات خیالات کے تمام حاجتوں کے متکفل ہیں تو وہ زبان بلاشبہ الہامی ہے کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کا فعل ہے جو اس نے انسان کو ہزارہا طور کے خیالات ظاہر کرنے کے لئے مستعد پیدا کیا ہے۔پس ضرور تھا کہ انہیں خیالات کے اندازہ کے موافق اس کو ذخیرہ قولی مفردات بھی دیا جاتا تا خدا تعالیٰ کا قول اور فعل ایک من الرحمن۔۔۔خ۔جلد 9 صفحہ 141) ہی مرتبہ پر ہو۔عربی دینی معارف کی زبان ہے و من اجلى البديهيات ان الشريعة الكبرى الابدية و الملة المحيطة الكاملة۔تقتضى ان تنزل بلسان تكون اكمل الالسنة و اوسع الادعية و لا سيما شريعة جاء ت بكتاب فيه اعجاز البلاغة والفصاحة۔و هو يطلب عبارات من مثله من جميع الالسن و كافة البرية۔فانت تعلم ان هذا الاعجاز تحتاج الى كمال اللسان ويقتضى ان يكون ظرفها و سيعاً كمثل قوى الانسان۔فان اللسان كدعاء لمتاع البيان و كصدف لدرر العرفان۔فلو فرضنا ان لسانا اخرى اكمل من العربية۔فلزمنا ان نقرانها اسبق منها في ميادين البلاغة۔و انسب لحسن اداء المعارف الدينية۔فكان الله اخطاء نی ترکه ایاه و انزاله القران فى هذه اللهجة الناقصة۔فتب ايها المسكين و لا تتبع اهواء النفس المارة۔انجام آھم ر۔خ۔جلد 11 صفحہ 260 حاشیہ)