حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 621 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 621

621 حسنات سے مراد نماز ہے إِنَّ الْحَسَنتِ يُذْهِبْنَ السَّيَاتِ (هود: 115) نیکیاں بدیوں کو زائل کر دیتی ہیں۔پس ان حسنات کو اور لذات کو دل میں رکھ کر دعا کرے کہ وہ نماز جو صدیقوں اور محسنوں کی ہے وہ نصیب کرے۔یہ جو فرمایا ہے کہ اِنَّ الْحَسَنَتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاتِ (هود:115) یعنی نیکیاں یا نماز بدیوں کو دور کرتی ہے یا دوسرے مقام پر فرمایا ہے کہ نماز فواحش اور برائیوں سے بچاتی ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ باوجود نماز پڑھنے کے پھر بدیاں کرتے ہیں اس کا جواب یہ ہے کہ وہ نماز پڑھتے ہیں مگر نہ روح اور راستی کے ساتھ۔وہ صرف رسم اور عادت کے طور پر ٹکریں مارتے ہیں ان کی روح مردہ ہے اللہ تعالیٰ نے ان کا نام حسنات نہیں رکھا اور یہاں جو حسنات کا لفظ رکھا اور الصلواۃ کا لفظ نہیں رکھا باوجود یکہ معنی وہی ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ تا نماز کی خوبی اور حسن و جمال کی طرف اشارہ کرے کہ وہ نماز بدیوں کو دور کرتی ہے جو اپنے اندر ایک سچائی کی روح رکھتی ہے اور فیض کی تاثیر اس میں موجود ہے۔وہ نماز یقینا برائیوں کو دور کرتی ہے۔ریویو آف ریلیچز جلد سوم نمبر 1 صفحہ 5) ( تفسیر حضرت اقدس سورۃ ھود جلد 5 صفحہ 57-56) جب تک انسان کامل طور پر توحید پر کار بند نہیں ہوتا۔اس میں اسلام کی محبت اور عظمت قائم نہیں ہوتی۔۔۔نماز کی لذت اور سرور اسے حاصل نہیں ہو سکتا۔مدار اسی بات پر ہے کہ جب تک بُرے ارادے ناپاک اور گندے منصوبے بھسم نہ ہوں انانیت اور شیخی دور ہو کر نیستی اور فروتنی نہ آئے خدا کا سچا بندہ نہیں کہلا سکتا اور عبودیت کا ملہ کے سکھانے کے لیے بہترین معلم اور افضل ترین ذریعہ نماز ہی ہے۔میں پھر تمہیں بتلاتا ہوں کہ اگر خدا تعالیٰ سے سچا تعلق۔حقیقی ارتباط قائم کرنا چاہتے ہو تو نماز پر کار بند ہو جاؤ اور ایسے کار بند بنو کہ تمہارا جسم نہ تمہاری زبان بلکہ تمہاری روح کے ارادے اور جذبے سب کے سب ہمہ تن نماز ہو جائیں۔لملفوظات جلد اول صفحہ 108) نماز خدا کا حق ہے اسے خوب ادا کرو اور خدا کے دشمن سے مداہنہ کی زندگی نہ برتو وفا اور صدق کا خیال رکھو اگر سارا گھر غارت ہوتا ہو تو ہونے دو مگر نماز کو ترک مت کرو وہ کافر اور منافق ہیں جو کہ نماز کو منحوس کہتے ہیں اور کہا کرتے ہیں کہ نماز کے شروع کرنے سے ہمارا فلاں فلاں نقصان ہوا ہے نماز ہرگز خدا کے غضب کا ذریعہ نہیں ہے جو اسے منحوس کہتے ہیں ان کے اندر خودزہر ہے جیسے بیمار کو شیرینی کڑوی لگتی ہے ویسے ہی ان کو نماز کا مزا نہیں آتا۔یہ دین کو درست کرتی ہے۔اخلاق کو درست کرتی ہے دنیا کو درست کرتی ہے نماز کا مزا دنیا کے ہر ایک مزے پر غالب ہے لذات جسمانی کے لیے ہزاروں خرچ ہوتے ہیں اور پھر ان کا نتیجہ بیماریاں ہوتی ہیں اور یہ مفت کا بہشت ہے جوا سے ملتا ہے۔قرآن شریف میں دو جنتوں کا ذکر ہے ایک ان میں سے دنیا کی جنت ہے اور وہ نماز کی لذت ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحه 592-591)