حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 606 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 606

606 نبی اور دعا وَاسْتَفْتَحُوا وَ خَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ۔(ابراهيم: 16) نبیوں نے اپنے تئیں مجاہدہ کی آگ میں ڈال کر فتح چاہتی۔پھر کیا تھا ہر ایک ظالم سرکش تباہ ہو گیا اور اسی کی طرف اس شعر میں اشارہ ہے تا دل مرد خدا نامد بدرد ی قومی را خدا رسوا نکرو ترجمہ :۔جب تک وہ کسی مرد خدا کا دل نہ دکھائے۔خدا کسی قوم کو رسوا نہیں کرتا۔(حقیقۃ الوحی۔رخ- جلد 22 صفحہ 324) ہر نبی پہلے صبر کی حالت میں ہوتا ہے پھر جب ارادہ الہی کسی قوم کی تباہی سے متعلق ہوتا ہے تو نبی میں درد کی حالت پیدا ہوتی ہے۔وہ دعا کرتا ہے پھر اس قوم کی تباہی یا خیر خواہی کے اسباب مہیا ہو جاتے ہیں۔دیکھو نوح علیہ السلام پہلے صبر کرتے رہے اور بڑی مدت تک قوم کی ایذائیں سہتے رہے پھر ارادہ الہی جب ان کی تباہی سے متعلق ہوا تو درد کی حالت پیدا ہوئی اور دل سے نکلا - (رَبِّ) لَا تَذَرُ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَفِرِينَ دَيَّارًا۔(نوح: 27) جب تک خدا کا ارادہ نہ ہو وہ حالت پیدا نہیں ہوتی۔پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ سال پہلے صبر کرتے رہے پھر جب درد کی حالت پیدا ہوئی تو قتال کے ذریعے مخالفین پر عذاب نازل ہوا۔(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 199) نبی اعلیٰ درجہ کی قوم سے ہوتا ہے يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَّانْثَى وَجَعَلْنَكُمْ شُعُوبًا وَّ قَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ۔(الحجرات : 14) ہم اس سے پہلے ابھی بیان کر چکے ہیں کہ ایسے اولیاء اللہ جو مامور نہیں ہوتے یعنی نبی یا رسول یا محدث نہیں ہوتے اور ان میں سے نہیں ہوتے جو دنیا کو خدا کے حکم اور الہام سے خدا کی طرف بلاتے ہیں ایسے ولیوں کوکسی اعلیٰ خاندان یا اعلیٰ قوم کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ ان کا سب معاملہ اپنی ذات تک محدود ہوتا ہے لیکن ان کے مقابل پر ایک دوسری قوم کے ولی ہیں جو رسول یا نبی یا محدث کہلاتے ہیں اور وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک منصب حکومت اور قضا کا لے کر آتے ہیں اور لوگوں کو حکم ہوتا ہے کہ ان کو اپنا امام اور سردار اور پیشو سمجھ لیں اور جیسا کہ وہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہیں اس کے بعد خدا کے ان نائبوں کی اطاعت کریں۔اس منصب کے بزرگوں کے متعلق قدیم سے خدا تعالیٰ کی یہی عادت ہے کہ ان کو اعلیٰ درجہ کی قوم اور خاندان میں سے پیدا کرتا ہے تا ان کے قبول کرنے اور ان کی اطاعت کا جو آ اٹھانے میں کسی کو کراہت نہ ہو اور چونکہ خدا نہایت رحیم و کریم ہے اس لئے نہیں چاہتا کہ لوگ ٹھوکر کھاویں اور ان کو ایسا ابتلا پیش آوے جو ان کو اس سعادت عظمی سے محروم رکھے کہ وہ اس کے مامور کے قبول کرنے سے اس طرح پر رک جائیں کہ اس شخص کی پیچ قوم کے لحاظ سے ننگ اور عاران پر غالب ہو اور وہ دلی نفرت کے ساتھ اس بات سے کراہت کریں کہ اس کے تابعدار بنیں اور اس کو اپنا بزرگ قرار دیں اور انسانی جذبات اور تصورات پر نظر کر کے یہ بات خوب ظاہر ہے کہ یہ ٹھو کر طبعا انسان کو پیش آ جاتی ہے۔( تریاق القلوب۔ر۔خ۔جلد 15 صفحہ 279)