حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 607 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 607

607 لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنْفُسِكُمْ۔(التوبة: 128) جیسا کہ خدا تعالیٰ قادر ہے۔حکیم بھی ہے اور اس کی حکمت اور مصلحت چاہتی ہے کہ اپنے نبیوں اور ماموروں کو ایسی اعلیٰ قوم اور خاندان اور ذاتی نیک چال چلن کے ساتھ بھیجے تا کہ کوئی دل ان کی اطاعت سے کراہت نہ کرے۔یہی وجہ ہے کہ جو تمام نبی علیہم السلام اعلیٰ قوم اور خاندان میں سے آتے رہے ہیں۔اسی حکمت اور مصلحت کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود باجود کی نسبت ان دونوں خوبیوں کا تذکرہ فرمایا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنْفُسِكُم (التوبة : 128) یعنی تمہارے پاس وہ رسول آیا ہے جو خاندان اور قبیلہ اور قوم کے لحاظ سے تمام دنیا سے بڑھ کر ہے اور سب سے زیادہ پاک اور بزرگ خاندان رکھتا ہے۔تریاق القلوب۔ر۔خ۔جلد 15 صفحہ 281) انبیاء قوت عشقیہ لیکر آتے ہیں کوئی نبی اور ولی قوت عشقیہ سے خالی نہیں ہوتا یعنی ان کی فطرت میں حضرت احدیت نے بندگان خدا کی بھلائی کے لئے ایک قسم کا عشق ڈالا ہو اہوتا ہے۔پس وہی عشق کی آگ ان سے سب کچھ کراتی ہے اور اگر ان کو خدا کا یہ حکم بھی پہنچے کہ اگر تم دعا اور غم خواری خلق اللہ نہ کر تو تمہارے اجر میں کچھ قصور نہیں۔تب بھی وہ اپنے فطرتی جوش سے رہ نہیں سکتے اور ان کو اس بات کی طرف خیال بھی نہیں ہوتا کہ ہم کو اس جان کنی سے کیا اجر ملے گا کیونکہ ان کے جوشوں کی بناء کسی غرض پر نہیں بلکہ وہ سب کچھ قوت عشقیہ کی تحریک سے ہے۔اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ الَّايَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعراء: 4) خدا اپنے نبی کو سمجھاتا ہے کہ اس قدر غم اور در دکو تو لوگوں کے مومن بن جانے کے لئے اپنے دل پر اٹھاتا ہے اس سے تیری جان جاتی رہے گی۔سو وہ عشق ہی تھا جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جان جانے کی کچھ پرواہ نہ کی۔پس حقیقی پیری مریدی کا یہی احوال ہے اور صادق اسی سے شناخت کئے جاتے ہیں کیونکہ خدا کا قدیمی احوال ہے کہ قوت عشقیہ صادقوں کے دلوں میں ضرور ہوتی ہے تا وہ بچے غم خوار بنے کیلئے لائق ٹھہر میں جیسے والدین اپنے بچہ کے لئے ایک قوت عشقیہ رکھتے ہیں تو ان کی دعا بھی اپنے بچوں کی نسبت قبولیت کی استعداد زیادہ رکھتی ہے اسی طرح جو شخص صاحب قوت عشقیہ ہے وہ خلق اللہ کے لئے حکم والدین رکھتا ہے اور خواہ نخواہ دوسروں کا غم اپنے گلے میں ڈال لیتا ہے کیونکہ قوت عشقیہ اس کو نہیں چھوڑتی اور یہ خداوند کریم کی طرف سے ایک انتظامی بات ہے کہ اس نے بنی آدم کو مختلف فطرتوں پر پیدا کیا ہے مثلاً دنیا میں بہادروں اور جنگ جو لوگوں کی ضرورت ہے سو بعض فطرتیں جنگ جوئی کی استعدا در کھتی ہیں۔اسی طرح دنیا میں ایسے لوگوں کی بھی ضرورت ہے کہ جن کے ہاتھ پر خلق اللہ کی اصلاح ہوا کرے۔سو بعض فطرتیں یہی استعداد لے کر آتی ہیں اور قوت عشقیہ سے بھری ہوئی ہوتی ہیں۔(مکتوبات بنام مولوی عبد القادر صاحب مندرجہ الحکام جلد دوم نمبر 25-24 مورخہ 20/27 اگست )