حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 587
587 اعلم من ربى ان الملائكة مدبرات للشمس والقمر والنجوم و كل ما في السماء والارض و قد قال الله تعالى و ان كل نفس لما عليها حافظ (الطارق:5) و قال و المدبرات امرا و مثل تلك الايات كثير فى القران فطوبى للمتدبرين۔(حمامتہ البشرا ی۔۔۔خ۔جلد 7 صفحہ 296) ترجمہ از مرتب : - میں نے اپنے رب سے یہ علم پایا ہے کہ فرشتے سورج چاند ستاروں اور آسمان وزمین کی ہر چیز کا انتظام کرنے والے ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ اِنْ كُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَيْهَا حَافِظٌ - ( الطارق : 5 ) اسی طرح فرمایا فَا الْمُدَتِرَاتِ اَمْرًا ) النزعت : 6 - اور اسی مضمون کی بہت سی آیات قرآن کریم میں ہیں۔پس مبارک ہیں وہ جو تد بر کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے جو ملائکہ کی تعریف کی ہے وہ ہر ایک ذرہ ذرہ پر صادق آ سکتی ہے جیسے فرمایا۔ان مــــن شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ (بنی اسرائیل : 45) ویسے ملائکہ کی نسبت فرمایا - يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ (النحل : 51) اس کی تشریح کنیم دعوت میں خوب کر دی ہے۔ہر ایک ذرہ ملائکہ میں داخل ہے اگر ان اعلیٰ کی سمجھ نہیں آتی تو پہلے ان چھوٹے چھوٹے ملائک پر نظر ڈال کر دیکھو ملائکہ کا انکار انسان کود ہر یہ بنادیتا ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 226-225) وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَئِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً قَالُوا اَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَالَا تَعْلَمُونَ۔(البقرة: 31) حکیم مطلق نے اس عالم کے احسن طور پر کاروبار چلانے کے لیے دو نظام رکھے ہوئے ہیں اور باطنی نظام فرشتوں کے متعلق ہے اور کوئی جز ظاہری نظام کی ایسی نہیں جس کے ساتھ در پردہ باطنی نظام نہ ہو۔۔۔اس عالم کی حرکات اور حوادث خود بخود نہیں اور نہ بغیر مرضی مالک اور نہ عبث بے ہودہ ہیں بلکہ در پردہ تمام اجرام علوی اور اجسام سفلی کے لیے منجانب اللہ مد بر مقرر ہیں جن کو دوسرے لفظوں میں ملا یک کہتے ہیں اور جب تک کوئی انسان پابند اعتقاد وجود ہستی باری ہے اور دہر یہ نہیں اس کو ضرور یہ بات ماننی پڑے گی کہ یہ تمام کا رو با رعبث نہیں بلکہ ہر یک حدوث اور ظہور پر خدا تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت بالا رادہ کا ہاتھ ہے اور وہ ارادہ تمام انتظام کے موافق بتوسط اسباب ظہور پذیر ہوتا ہے چونکہ خدا تعالیٰ نے اجرام اور اجسام کو علم اور شعور نہیں دیا اس لیے ان باتوں کے پورا کرنے کے لیے جن میں علم اور شعور درکار ہے ایسے اسباب یعنی ایسی چیزوں کی توسط کی حاجت ہوئی جن کو علم اور شعور دیا گیا ہے اور وہ ملا یک ہیں۔آئینہ کمالات اسلام -ر خ- جلد 5 صفحہ 128-125 حاشیہ )