حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 586 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 586

586 دوسری فصل ایمان بر ملائکہ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِلَّهِ وَ مَلئِكَتِهِ وَ رُسُلِهِ وَ جِبْرِيلَ وَ مِیكَيلَ فَإِنَّ اللَّهَ عَدُوٌّ لِلْكَفِرِينَ۔(البقرة :99) یعنی جو شخص خدا اور اس کے فرشتوں اور اس کے پیغمبروں اور جبریل اور میکائیل کا دشمن ہو تو خدا ایسے کافروں کا خود دشمن ہے۔اب ظاہر ہے کہ جو شخص تو حید خشک کا تو قائل ہے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مکذب ہے وہ در حقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن ہے لہذا بموجب منشاء اس آیت کے خدا اس کا دشمن ہے اور وہ خدا کے نزدیک کافر ہے تو پھر اس کی نجات کیونکر ہوسکتی ہے۔(حقیقۃ الوحی۔ر۔خ۔جلد 22 صفحہ 129-128 ) و الله ادخل وجود الملائكة فى الايمانيات كما ادخل فيها نفسه و قال و لكن البر من امن بالله واليوم الاخر والملئكة و الكتب والنبين (البقرة:178) و قال و ما يعلم جنود ربک الا هو (المدثر : 32) فبين للناس ان حقيقة الملائكة و حقيقة صفاتهم متعالية عن طور العقل ولا يعلمها احد الا الله فلا تضربوا الله و لا لملائكته الامثال واتوه مسلمين۔(حمامتہ البشری۔ر۔خ۔جلد 7 صفحہ 272) ( ترجمہ ) اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کے وجود کو ایمانیات میں شامل کیا ہے ٹھیک اسی طرح جس طرح اس نے اپنے آپ کو شامل کیا ہے۔اور فرمایا ہے وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَئِكَةِ وَالْكِتَبِ وَالنَّبِيِّنَ اور فرمایا ہے وَمَا يَعْلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلَّا هُوُ۔پس اس طرح اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو کھول کر بتا دیا کہ ملائکہ اور ان کی صفات کی حقیقت عقل سے بالا تر ہے جسے اللہ تعالے کے سوا اور کوئی نہیں جانتا اس لیے تم اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں کے متعلق اپنے پاس سے باتیں نہ بنایا کرو اور ا سکے حضور میں فرمانبردار بنکر حاضر ہو۔معنی لفظ ملائک ملا یک اس معنی سے ملا یک کہلاتے ہیں کہ وہ ملاک اجرام سماویہ اور ملاک اجسام الارض ہیں یعنی ان کے قیام اور بقا کے لیے روح کی طرح ہیں اور نیز اس معنی سے بھی ملائک کہلاتے ہیں کہ وہ رسولوں کا کام دیتے ہیں۔توضیح مرام - ر-خ- جلد 3 صفحہ 68 حاشیہ) فرشتہ کا لفظ قرآن شریف میں عام ہے ہر ایک چیز جو اس کی آواز سنتی ہے وہ اس کا فرشتہ ہے۔پس دنیا کا ذرہ ذرہ خدا کا فرشتہ ہے کیونکہ وہ اس کی آواز سنتے ہیں اور اس کی فرماں برداری کرتے ہیں۔اور اگر ذرہ ذرہ اس کی آواز سنتا نہیں تو خدا تعالیٰ نے زمین آسمان کے اجرام کو کس طرح پیدا کر لیا اور یہ استعارہ جو ہم نے بیان کیا ہے اس طرح خدا کے کلام میں بہت سے استعارات ہیں جو نہایت لطیف علم اور حکمت پر مشتمل ہیں۔نسیم دعوت۔ر۔خ۔جلد 19 صفحہ 457)