حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 585
585 دعا خدا تعالیٰ کی ہستی کا زبردست ثبوت ہے چنانچہ خدا تعالیٰ ایک جگہ فرماتا ہے۔وَ إِذَا سَالَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَان - یعنی جب میرے بندے تجھ سے سوال کریں کہ خدا کہاں ہے اور اس کا کیا ثبوت ہے تو کہدو کہ وہ بہت ہی قریب ہے۔اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ جب کوئی دعا کرنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کو جواب دیتا ہوں یہ جواب کبھی رویا صالحہ کے ذریعہ ملتا ہے اور کبھی کشف اور الہام کے واسطے سے اور علاوہ بریں دعاؤں کے ذریعہ خدا تعالیٰ کی قدرتوں اور طاقتوں کا اظہار ہوتا ہے۔اور معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایسا قادر ہے۔جب کہ مشکلات کو حل کر دیتا ہے غرض دعا بڑی دولت اور طاقت ہے۔اور قرآن شریف میں جابجا اس کی ترغیب دی ہے اور ایسے لوگوں کے حالات بھی بتائے ہیں جنہوں نے دعا کے ذریعہ اپنے مشکلات سے نجات پائی۔انبیاء علیہم السلام کی زندگی کی جڑ اور ان کی کامیابیوں کا اصل اور سچا ذریعہ یہی دعا ہے۔پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ اپنی ایمانی اور عملی طاقت کو بڑھانے کے واسطے دعاؤں میں لگے رہو۔دعاؤں کے ذریعہ سے ایسی تبدیلی ہوگی جو خدا کے فضل سے خاتمہ بالخیر ہو جاویگا۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 207) اگر کوئی اور بھی خدا ہوتا۔تو دونوں بگڑ جاتے لَوْ كَانَ فِيْهِمَا الِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا فَسُبُحْنَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُونَ۔(الانبياء: 23) اس (یعنی خدا تعالیٰ۔ناقل ) کے وحدہ لا شریک ہونے پر ایک عقلی دلیل بیان فرمائی اور کہا لَوُكَانَ فِيهِمَا الِهَةٌ إِلَّا اللهُ لَفَسَدَتَا (الانبياء : 23) وَ مَا كَانَ مَعَهُ مِنْ الهِ (المومنون : 92) یعنی اگر زمین آسمان میں بجز اس ایک ذات جامع صفات کاملہ کے کوئی اور بھی خدا ہوتا تو وہ دونوں بگڑ جاتے کیونکہ ضرور تھا کہ کبھی وہ جماعت خدائیوں کی ایک دوسرے کے برخلاف کام کرتے۔پس اسی پھوٹ اور اختلاف سے عالم میں فساد راہ پاتا اور نیز اگر الگ الگ خالق ہوتے تو ہر واحد ان میں سے اپنی ہی مخلوق کی بھلائی چاہتا اور ان کے آرام کے لئے دوسروں کا برباد کر ناروا ر کھتا۔پس یہ بھی موجب فساد عالم ٹھہرتا۔(براہین احمدیہ ر۔خ۔جلد 1 صفحہ 518,519)