حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 568 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 568

568 ایمان کے مدارج كَلَّا لَوْ تَعْلَمُونَ عِلْمَ الْيَقِينِ۔لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ۔ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَيْنَ الْيَقِين۔(التكاثر : 6 تا 8) ایمان اس اقرار لسانی و تصدیق قلبی سے مراد ہے جو تبلیغ و پیغام کسی نبی کی نسبت محض تقوی اور دوراندیشی کے لحاظ سے صرف نیک ظنی کی بنیاد پر یعنی بعض وجوہ کو معتبر سمجھ کر اور اس طرف غلبہ اور رجحان پا کر بغیر انتظار کامل اور قطعی اور واشگاف ثبوت کے دلی انشراح سے قبولیت و تسلیم ظاہر کی جائے لیکن جب ایک خبر کی صحت پر وجوہ کاملہ قیاسیہ اور دلائل کا فیہ عقلیہ مل جائیں تو اس بات کا نام ایقان ہے جس کو دوسرے لفظوں میں علم الیقین بھی کہتے ہیں اور جب خدائے تعالیٰ خود اپنے خاص جذبہ اور موہبت سے خارق عادت کے طور پر انوار ہدایت کھولے اور اپنے آلاء ونعماء سے آشنا کرے اور لدنی طور پر عقل اور علم عطا فرمادے اور ساتھ اس کے ابواب کشف اور الہام بھی منکشف کر کے عجائبات الوہیت کا سیر کرا دے اور اپنے محبوبانہ حسن و جمال پر اطلاع بخشے تو اس مرتبہ کا نام عرفان ہے جس کو دوسرے لفظوں میں عین الیقین اور ہدایت اور بصیرت سے بھی موسوم کیا گیا ہے اور جب ان تمام مراتب کی شدت اثر سے عارف کے دل میں ایک ایسی کیفیت حالی عشق اور محبت کے بازنہ تعالیٰ پیدا ہو جائے کہ تمام وجود عارف کا اس کی لذت سے بھر جائے اور آسمانی انوار اس کے دل پر بکلی احاطہ کر کے ہر ایک ظلمت و قبض و شنگی کو درمیان سے اٹھا دیں یہانتک کہ بوجہ کمال رابطه عشق و محبت و باعث انتہائی جوش صدق وصفا کی بلا اور مصیبت بھی محسوس اللذت و مدرک الحلاوت ہو تو اس درجہ کا نام اطمینان ہے جس کو دوسرے لفظوں میں حق الیقین اور فلاح اور نجات سے بھی تعبیر کرتے ہیں مگر یہ سب مراتب ایمانی مرتبہ کے بعد ملتے ہیں۔جو شخص اپنے ایمان میں قوی ہوتا ہے وہ رفتہ رفتہ ان سب مراتب کو پالیتا ہے لیکن جو شخص ایمانی طریق کو اختیار نہیں کرتا اور ہر یک صداقت کے قبول کرنے سے اول قطعی اور یقینی اور نہایت واشگاف ثبوت مانگتا ہے اس کی طبیعت کو اس راہ سے کچھ مناسبت نہیں اور وہ اس لائق ہرگز نہیں ہوسکتا کہ اس قادر غنی بے نیاز کے فیوض حاصل کرے۔(سرمه چشم آرید - ر-خ- جلد 2 صفحه 79-73) قادر مومن کی تعریف إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا وَجَاهَدُوا بِاَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُولئِكَ هُمُ الصَّدِقُونَ۔(الحجرات: 16) سوا اس کے نہیں کہ مومن وہ لوگ ہیں جو خدا اور رسول پر ایمان لائے پھر بعد اس کے ایمان پر قائم رہے اور شکوک وشبہات میں نہیں پڑے۔دیکھو ان آیات میں خدا تعالیٰ نے حصر کر دیا کہ خدا کے نزدیک مومن و ہی لوگ ہیں کہ جو صرف خدا پر ایمان نہیں لاتے بلکہ خدا اور رسول دونوں پر ایمان لاتے ہیں پھر بغیر ایمان بالرسول کے نجات کیونکر ہوسکتی ہے اور بغیر رسول پر ایمان لانے کے صرف تو حید کس کام آ سکتی ہے۔(حقیقۃ الوحی۔رخ۔جلد 22 صفحہ 132)