حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 540
540 وَ مَنْ جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَكَبَّتْ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ هَلْ تُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ۔(النمل: 91) بدی کرنے والے اس دن جہنم میں گرائے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ یہ جزا در حقیقت وہی تمہارے اعمال ہیں جو تم دنیا میں کرتے تھے یعنی خدا تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرے گا بلکہ نیکی کے اعمال جنت کی صورت میں اور بدی کے اعمال دوزخ کی صورت میں ظاہر ہو جائیں گے۔آئینہ کمالات اسلام - ر - خ - جلد 5 صفحہ 148) نَارُ اللَّهِ الْمُوْقَدَةُ الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الْأَفْئِدَةِ۔(الهمزة: 8-7) میرے دوستوں کی نظر سے یہ امر ہرگز پوشیدہ نہ رہے کہ انسان مال و دولت یازن و فرزند کی محبت کے جوش اور نشے میں ایسادیوانہ اور از خود رفتہ نہ ہو جاوے کہ اس میں اور خدا تعالیٰ میں ایک حجاب پیدا ہو جاوے مال اور اولا داسی لئے تو فتنہ کہلاتی ہے ان سے بھی انسان کے لئے ایک دوزخ تیار ہوتا ہے اور جب وہ ان سے الگ کیا جاتا ہے تو سخت بے چینی اور گھبراہٹ ظاہر کرتا ہے اور اس طرح پر یہ بات کہ نَارُ اللهِ الْمُوْقَدَةُ الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الْأَفْئِدَةِ (الهمزة : 8-7) منقولی رنگ میں نہیں رہتا بلکہ معقولی شکل اختیار کر لیتا ہے۔پس یہ آگ جو انسانی دل کو جلا کر کباب کر دیتی ہے اور ایک جلے ہوئے کوئلے سے بھی سیاہ اور تاریک بنا دیتی ہے یہ وہی غیر اللہ کی محبت ہے۔دو چیزوں کے باہم تعلق اور رگڑ سے ایک حرارت پیدا ہوتی ہے اسی طرح پر انسان کی محبت اور دنیا اور دنیا کی چیزوں کی محبت کی رگڑ سے الہی محبت جل جاتی ہے اور دل تاریک ہو کر خدا سے دور ہو جاتا اور ہر قسم کی بیقراری کا شکار ہو جاتا ہے۔کیفیات جنت ( ملفوظات جلد اول صفحه 371) و مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِى وُعِدَ الْمُتَّقُونَ فِيهَا انْهَرٌ مِّنْ مَّاءٍ غَيْرِ اسِنٍ وَأَنْهَرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ يَتَغَيَّرُ طَعْمُهُ وَأَنْهَرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةِ لِلشَّرِبِينَ وَ أَنْهَرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى وَ لَهُمْ فِيهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ وَ مَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمُ كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِي النَّارِ وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءَ هُمُ۔(محمد: 16) وہ بہشت جو پر ہیز گاروں کو دیا جائے گا اس کی مثال یہ ہے کہ جیسے ایک باغ ہے اس میں اس پانی کی نہریں ہیں جو کبھی متعفن نہیں ہوتا اور نیز اس میں اس دودھ کی نہریں ہیں جس کا کبھی مزہ نہیں بدلتا۔نیز اس میں شراب کی نہریں ہیں جو سراسر سرور بخش ہیں جس کے ساتھ خمار نہیں۔نیز اس میں اس شہد کی نہریں ہیں جو نہایت صاف ہیں جسکے ساتھ کوئی کثافت نہیں۔اس جگہ صاف طور پر فرمایا کہ اس بہشت کو مثالی طور پر یوں سمجھ لو کہ ان تمام چیزوں کی اس میں نا پیدا کنار نہریں ہیں۔وہ زندگی کا پانی جو عارف دنیا میں روحانی طور پر پیتا ہے اس میں ظاہری طور پر موجود ہے اور وہ روحانی دودھ جس سے وہ شیر خوار بچہ کی طرح روحانی طور پر پرورش پاتا ہے بہشت میں ظاہر ظاہر دکھائی دے گا اور وہ خدا