حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 26
26 26 چھٹی فصل روح القدس کی تائید کے اعتبار سے تفسیر آیت وَمَايَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى (النجم : 54 ) اور نہیں وہ بولتا اپنی خواہش سے نہیں وہ مگر وحی ہے جو کی جاتی ہے ) یادر ہے کہ اگر چہ ہر ایک نبی میں مہدی ہونے کی صفت پائی جاتی ہے کیونکہ سب نبی تلامیذ الرحمان ہیں اور نیز اگر چہ ہر ایک نبی میں مؤید بروح القدس ہونے کی صفت بھی پائی جاتی ہے کیونکہ تمام بی روح القدس سے تائید یافتہ ہیں لیکن پھر بھی یہ دو نام دو نبیوں سے کچھ خصوصیت رکھتے ہیں یعنی مہدی کا نام ہمارے نبی ﷺ سے خاص ہے اور مسیح یعنی کا نبی موید بروح القدس کا نام حضرت عیسی علیہ السلام سے کچھ خصوصیت رکھتا ہے گو ہمارے نبی ہے اس نام کے رو سے بھی فائق ہیں کیونکہ ان کوشدید القوی کا دائمی انعام دیا گیا ہے لیکن روح القدس کے مرتبہ میں جو شدید القوی سے کم مرتبہ ہے حضرت مسیح کو یہ خصوصیت دی گئی ہے جیسا کہ یہ دونوں خصوصیتیں قرآن شریف سے ظاہر ہیں آنحضرت کا دوسرا نام اتنی مہدی رکھا اور وعلمہ شدید القوی فرمایا اور حضرت مسیح کو روح القدس سے تائید یافتہ قرار دیا جیسا کہ کسی شاعر نے بھی کہا ہے۔فیض روح القدس از باز مدد فرماید ہمہ آں کارکنند آنچه مسیحا می کرد اور نبیوں کی پیشگوئی میں یہ تھا کہ امام آخر الزمان میں یہ دونوں صفتیں اکٹھی ہو جائیں گی یہ اس طرف اشارہ ہے کہ وہ آدھا اسرائیلی ہوگا اور آدھا اسماعیلی۔اربعین نمبر 2 - رخ جلد 17 صفحہ 359-358 حاشیہ ) اس عاجز کو اپنے ذاتی تجربہ سے یہ معلوم ہے کہ روح القدس کی قدستیت ہر وقت اور ہر دم اور ہر لحظہ بلا فصل ملہم کے تمام قومی میں کام کرتی رہتی ہے اور وہ بغیر روح القدس اور اس کی تاثیر قدسیت کے ایک دم بھی اپنے تیں ناپاکی سے بچا نہیں سکتا اور انوار دائی اور استقامت دائگی اور محبت دائمی اور عصمت دائمی اور برکات دائمی کا بھی سبب ہوتا ہے کہ روح القدس ہمیشہ اور ہر وقت ان کے ساتھ ہوتا ہے پھر امام المعصومین اور امام المستمر کین اور سید المقربین کی نسبت کیونکر خیال کیا جائے نعوذ باللہ کسی وقت ان تمام برکتوں اور پاکیزگیوں اور روشنیوں سے خالی رہ جاتے تھے۔افسوس کہ یہ لوگ حضرت عیسی کی نسبت یہ اعتقادر کھتے ہیں کہ تینتیس برس روح القدس ایک دم کیلئے بھی ان سے جدا نہیں ہوا مگر اس جگہ اس قرب سے منکر ہیں۔آئینہ کمالات اسلام۔رخ جلد 5 صفحہ 94-93 حاشیہ ) مہدی کے مفہوم میں یہ معنی اخذ ہیں کہ وہ سی انسان کا علم دین میں شاگر دیا مرید نہ ہو خدا کی ایک خاص تجلی تعلیم لدنی کے نیچے دانی طور پر شو نما پاتا ہو جوروں القدس کے ہر ایک تمثل سے بڑھ کر ہے اور ایسی تعلیم پانا صفت محمدی ہے اور اسی کی طرف آیت عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوسی میں اشارہ ہے اور اس فیض کے دائی اور غیر منفک ہونے کی طرف آیت وَمَايَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحی میں اشارہ ہے اور سی کے مفہوم میں یہ منی ماخوذ ہیں جو دائی طور پر وہ روح القدس اس کے شامل حال ہو جو شدید القوی کے درجہ سے کم تر ہو کیونکہ روح القدس کی تاثیر یہ ہے کہ وہ اپنی منزل علیہ میں ہو کر انسانوں کو راستی کا ملزم بناتا ہے مگر شدید القوی راستی کا اعلیٰ رنگ منزل علیہ میں ہو کر انسانوں کے دلوں میں چڑھاتا ہے۔اربعین نمبر 2 ر خ جلد 17 صفحہ 361-360 حاشیہ)