حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 516
516 وحی دو قسم کی ہے وحی الابتلاء اور وحی الاصطفاء۔وحی الابتلاء بعض اوقات موجب ہلاکت ہو جاتی ہے جیسا کہ بلعم اسی وجہ سے ہلاک ہو انگر صاحب وحی الاصطفاء کبھی ہلاک نہیں ہوتا۔(حقیقۃ الوحی۔ر۔خ۔جلد 22 صفحہ 11) درجات الهام اگر الہامات کسی ناواقف اور ناخواندہ کے الہامی فقروں میں نحوی اور صرفی غلطی ہو جاوے تو نفس الہام قابل اعتراض نہیں ہوسکتا۔بی ادنی درجہ کا الہام کہلاتا ہے جو خدا تعالیٰ کے نور کی پوری تجلی سے رنگ پذیر نہیں ہوتا کیونکہ الہام تین طبقوں کا ہوتا ہے ادنی اور اوسط اور اعلیٰ۔(ضرورت الامام۔رخ۔جلد 13 صفحہ 499) کیفیات نزول وحی والہام وَ مَا كَانَ لِبَشَرِ أَنْ يُكَلَّمَهُ اللهُ۔۔۔۔الاية۔(الشورى: 52) ( برکات الدعا۔رخ۔جلد 6 صفحہ 26) میں نے دیکھا ہے کہ اس وحی کے وقت جو برنگ وحی ولایت میرے پر نازل ہوتی ہے ایک خارجی اور شدیدالاثر تصرف کا احساس ہوتا ہے اور بعض دفعہ یہ تصرف ایسا قوی ہوتا کہ مجھ کو اپنے انوار میں ایساد با لیتا ہے کہ میں دیکھتا ہوں کہ میں اس کی طرف ایسا کھینچا گیا ہوں کہ میری کوئی قوت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔اس تصرف میں کھلا اور روشن کلام سنتا ہوں۔بعض دفعہ ملائکہ کو دیکھتا ہوں اور سچائی میں جو اثر اور ہیبت ہوتی ہے مشاہدہ کرتا ہوں اور وہ کلام بسا اوقات غیب کی باتوں پر مشتمل ہوتا اور ایسا تصرف اور اخذ خارجی ہوتا ہے جس سے خدا تعالیٰ کا ثبوت ملتا ہے اب اس سے انکار کرنا بھی ایک کھلی کھلی صداقت کا خون کرنا ہے۔الہام کے بارے میں ہمارا تجربہ ہے کہ تھوڑی سی غنودگی ہو کر اور بعض اوقات بغیر غنودگی کے خدا کا کلام ٹکڑہ ٹکڑہ ہو کر زبان پر جاری ہوتا ہے۔جب ایک ٹکڑہ ختم ہو چکتا ہے تو حالت غنودگی جاتی رہتی ہے پھر ملہم کے کسی سوال سے یا خود بخود خدا تعالیٰ کی طرف سے دوسرا ٹکڑہ الہام ہوتا ہے اور وہ بھی اسی طرح کہ تھوڑی غنودگی وارد ہو کر زبان پر جاری ہو جاتا ہے۔اسی طرح بسا اوقات ایک ہی وقت میں تسبیح کے دانوں کی طرح نہایت بلیغ فصیح لذیذ فقرے غنودگی کی حالت میں زبان پر جاری ہوتے جاتے ہیں اور ہر ایک فقرہ کے بعد غنودگی دور ہو جاتی ہے اور وہ فقرے یا تو قرآن شریف کی بعض آیات ہوتی ہیں یا اس کے مشابہہ ہوتے ہیں اور اکثر علوم غیبیہ پرمشتمل ہوتے ہیں اور ان میں ایک شوکت ہوتی ہے اور دل پر اتر آتے ہیں اور ایک لذت محسوس ہوتی ہے اس وقت دل نور میں غرق ہوتا ہے گویا خدا اس میں نازل ہوتا ہے اور دراصل اس کو الہام نہیں کہنا چاہیئے بلکہ یہ خدا کا کلام ہے۔چشمہ معرفت۔ر۔خ۔جلد 23 صفحہ 314 حاشیہ) جب سماع کے ذریعہ سے کوئی خبر دی جاتی ہے تو اسے وحی کہتے ہیں اور جب رویت کے ذریعہ سے کچھ بتلا یا جاوے تو اسے کشف کہتے ہیں۔اس طرح میں نے دیکھا ہے کہ بعض وقت ایک ایسا امر ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا تعلق صرف قوت شامہ سے ہوتا ہے مگر اس کا نام نہیں رکھ سکتے جیسے یوسف کی نسبت حضرت یعقوب کو خوشبو آئی تھی إِنِّي لَا جِدُ رِيحَ يُوْسُفَ لَوْ لَا اَنْ تُفَنِّدُونِ۔(یوسف :95) اور بھی ایک امر ایسا ہوتا ہے کہ جسم اسے محسوس کرتا ہے گویا کہ حواس خمسہ کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اپنی باتیں اظہار کرتا ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 263-262)