حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 494
494 قحط تو انسانوں کا کانشنس خود اس طرف متوجہ ہو جاتا ہے کہ وہ دعا اور توبہ اور تضرع اور صدقات اور خیرات سے اس عذاب کو موقوف کرانا چاہیں۔چنانچہ ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے۔اس سے یہ ثبوت ملتا ہے کہ رحیم خدا عذاب کو دور کرنے کے لئے خود الہام دلوں میں ڈالتا ہے جیسا کہ حضرت موسیٰ کی دعائیں کئی دفعہ منظور ہو کر بنی اسرائیل کے سر سے عذاب ٹل گیا۔غرض اسلام کی لڑائیاں سخت طبع مخالفوں پر ایک عذاب تھا جس میں ایک رحمت کا طریق بھی کھلا تھا۔سو یہ خیال کرنا دھوکہ ہے کہ اسلام نے توحید کے شائع کرنے کے لئے لڑائیاں کیں۔یادرکھنا چاہئے کہ لڑائیوں کی بنیاد محض سزا دہی کے طور پر اس وقت سے شروع ہوئی کہ جب دوسری قوموں نے ظلم اور مزاحمت پر کمر باندھی۔( سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب۔ر۔خ۔جلد 12 صفحہ 351) جہاد جرائم پیشہ کے خلاف تھا فَإِنْ حَاجُوكَ فَقُلْ أَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلَّهِ وَ مَنِ اتَّبَعَنِ طَ وَ قُلْ لِلَّذِينَ أوتُوا الْكِتَبَ وَالْأُمِّينَ أَسْلَمْتُمُ ، فَإِنْ اَسْلَمُوا فَقَدِ اهْتَدَوُا وَ إِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلغُ ط وَ اللهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ۔(ال عمران: 21) اور اے پیغمبر اہل کتاب اور عرب کے جاہلوں کو کہو کہ کیا تم دین اسلام میں داخل ہوتے ہو۔پس اگر اسلام قبول کر لیں تو ہدایت پاگئے اور اگر منہ موڑیں تو تمہارا تو صرف یہی کام ہے کہ حکم الہی پہنچا دو۔اس آیت میں یہ نہیں لکھا کہ تمہارا یہ بھی کام ہے کہ تم ان سے جنگ کرو اس سے ظاہر ہے کہ جنگ صرف جرائم پیشہ لوگوں کے لیے تھا کہ مسلمانوں کو قتل کرتے تھے یا امن عامہ میں خلل ڈالتے تھے اور چوری ڈاکہ میں مشغول رہتے تھے اور یہ جنگ بحیثیت چشمه معرفت - ر-خ- جلد 23 صفحہ 243) بادشاہ ہونے کے تھانہ بحیثیت رسالت۔جہاد بغاوت دور کرنے اور آزادی مذہب کے لئے تھا وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ فَإِنِ انْتَهَوا فَإِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ بَصِيرٌ۔(الانفال:40) یعنی اس حد تک ان کا مقابلہ کرو کہ ان کی بغاوت دور ہو جائے اور دین کی روکیں اُٹھ جائیں اور حکومت اللہ کے دین کی ہو جائے۔قَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلهِ يعنى عرب کے ان مشرکوں کو قتل کر د یہاں تک کہ بغاوت باقی نہ رہ جاوے اور دین یعنی حکومت اللہ تعالیٰ کی ہو جائے۔اس سے کہاں جبر نکلتا ہے۔اس سے تو صرف اس قدر پایا جاتا ہے کہ اس حد تک لڑو کہ ان کا زور ٹوٹ جائے اور شرارت اور فساداٹھ جائے اور بعض لوگ جیسے خفیہ طور پر اسلام لائے ہوئے ہیں ظاہر بھی اسلامی احکام ادا کرسکیں۔اگر اللہ جل شانہ کا ایمان بالجبر منشا ہوتا جیسا کہ ڈپٹی صاحب سمجھ رہے ہیں تو پھر جزیہ اور صلح اور معاہدات کیوں جائز رکھے جاتے اور کیا وجہ تھی کہ یہود اور عیسائیوں کے لیے یہ اجازت دی جاتی کہ وہ جزیہ دیگر امن میں آجائیں اور مسلمانوں کے زیر سایہ امن کے ساتھ بسر کریں۔جنگ مقدس - ر - خ- جلد 6 صفحہ 263)