حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 449
449 صحت حدیث اور حکم و عدل کا فیصلہ مسیح موعود بطور حکم و عدل حکم کا لفظ صاف ظاہر کرتا ہے کہ اس وقت اختلاف ہوگا اور 73 فرقے موجود ہوں گے اور ہر فرقہ اپنے مسلمات کو جو اس نے بنا رکھے ہیں قطع نظر اس کے کہ وہ جھوٹے ہیں یا خیالی چھوڑ نا نہیں چاہتا بلکہ ہر ایک اپنی جگہ یہ چاہے گا کہ اس کی بات ہی مانی جاوے اور جو کچھ وہ پیش کرتا ہے وہ سب کچھ تسلیم کر لیا جاوے۔ایسی صورت میں اس حکم کو کیا کرنا ہوگا۔کیا وہ سب کی باتیں مان لے گا یا یہ کہ بعض رد کر یگا اور بعض کو تسلیم کرے گا۔غیر مقلد تو راضی نہیں ہو گا جب تک اس کی پیش کردہ احادیث کا سارا مجموعہ وہ مان نہ لے اور ایسا ہی حنفی معتزلہ شیعہ وغیرہ کل فرقے تو تب ہی اس سے راضی ہوں گے کہ وہ ہر ایک کی بات تسلیم کرے اور کوئی بھی رد نہ کرے اور یہ ناممکن ہے۔اگر یہ ہو کہ کوٹھڑی میں بیٹھا رہے گا اور اگر شیعہ اس کے پاس جائیگا تو اندر ہی اندر مخفی طور پر اسے کہ دیگا کہ تو سچا ہے اور پھر سنی اس کے پاس جائیگا تو اس کو کہ دیگا کہ تو سچا ہے۔تو پھر تو بجائے حکم ہونے کے وہ پکا منافق ہوا اور بجائے وحدت کی روح پھونکنے کے اور سچا اخلاص پیدا کرنے کے وہ نفاق پھیلانے والا ٹھہرا۔مگر یہ بالکل غلط ہے۔آنے والا موعود حکم واقعی حکم ہوگا۔اسکا فیصلہ قطعی اور یقینی ہے۔ایک نقل مشہور ہے کہ کسی عورت کی دو لڑکیاں تھیں ایک بیٹ میں بیاہی ہوئی تھی اور دوسری بانگر میں اور وہ ہمیشہ یہ سوچتی رہتی تھی کہ دو میں سے ایک ہے نہیں اگر بارش زیادہ ہوگئی تو بیٹ والی نہیں ہے اور اگر نہ ہوئی تو بانگر والی نہیں ہے۔یہی حال حکم کے آنے پر ہونا چاہیئے۔وہ خودساختہ اور موضوع باتوں کو رد کر دیگا اور سچ کو لے گا۔یہی وجہ ہے کہ اس کا نام حکم رکھا گیا ہے۔اسی لیے آثار میں آیا ہے کہ اس پر کفر کا فتوی دیا جاوے گا کیونکہ وہ جس فرقہ کی باتوں کو رد کریگا وہی اس پر کفر کا فتوی دیگا۔یہانتک کہا ہے کہ مسیح موعود کے نزول کے وقت ہر ایک شخص اُٹھ کر کھڑا ہوگا اور منبر پر چڑھ کر کہے گا۔ان هذا الرَّجُلُ غَيَّرَ دِينَنَا۔اس شخص نے ہمارے دین کو بدل دیا ہے۔اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت اس امر کا ہوگا کہ وہ بہت سی باتوں کو رڈ کر دیگا جیسا کہ اس کا منصب اس کو اجازت دیگا۔غرض اس بات کو سرسری نظر سے ہرگز نہیں دیکھنا چاہئے بلکہ غور کرنا چاہیئے کہ حکم عدل کا آنا اور اس کا نام دلالت کرتا ہے کہ وہ اختلاف کے وقت آئے گا اور اس اختلاف کو مٹائے گا۔ایک کورد کریگا اور اندرونی غلطیوں کی اصلاح کریگا۔وہ اپنے نور فراست اور خدا تعالیٰ کے اعلام والہام سے بعض ڈھیروں کے ڈھیر جلا دیگا اور پکی اور محکم باتیں رکھ لے گا۔جب یہ مسلم امر ہے تو پھر مجھ سے یہ امید کیوں کی جاتی ہے کہ میں ان کی ہر بات مان لوں قطع نظر اس کے کہ وہ بات غلط اور بیہودہ ہے۔اگر میں ان کا سارا رطب و یابس مان لوں تو پھر میں حکم کیسے ٹھہر سکتا ہوں؟ ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 22-21)