حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 392 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 392

392 قرآن کریم تمام انسانوں کو ایک قوم بنا دے گا قَالَ هَذَا رَحْمَةٌ مِّنْ رَّبِّي فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ رَبِّي جَعَلَهُ دَكَّاءَ وَكَانَ وَعْدُرَتِيْ حَقًّا۔وَتَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍيَّمُوْجُ فِي بَعْضٍ وَ نُفِخَ فِى الصُّوْرِ فَجَمَعْنَهُمْ جَمْعًا۔وَعَرَضْنَا جَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ لِلْكَفِرِيْنَ عَرْضًا وَالَّذِيْنَ كَانَتْ أَعْيُنُهُمْ فِي غِطَاءِ عَنْ ذِكْرِى وَكَانُوْا لَا يَسْتَطِيعُونَ سَمْعًا۔(الكهف: 99 :102) ایک قوم بنانے کا ذکر قرآن شریف کی سورہ کہف میں موجود ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَتَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوْجُ فِي بَعْضٍ وَ نُفِخَ فِى الصُّوْرِ فَجَمَعْنَهُمْ جَمْعًا۔یعنی ہم آخری زمانہ میں ہر ایک قوم کو آزادی دینگے تا اپنے مذہب کی خوبی دوسری قوم کے سامنے پیش کرے اور دوسری قوم کے مذہبی عقائد اور تعلیم پر حملہ کرے اور ایک مدت تک ایسا ہوتا رہے گا۔پھر قرنا میں ایک آواز پھونک دی جائے گی تب ہم تمام قوموں کو ایک قوم بنا دیں گے اور ایک ہی مذہب پر جمع کر دیں گے۔چشمہ معرفت۔ر۔خ۔جلد 23 صفحہ 75 حاشیہ ) اصل بات یہ ہے کہ یہ وہ زمانہ آ گیا ہے کہ جس کا ذکر اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے کہ وَتَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍيَّمُوْجُ فِي بَعْضٍ وَ نُفِخَ فِى الصُّوْرِ فَجَمَعْنَهُمْ جَمْعًا۔موجودہ آزادی کی وجہ سے انسانی فطرت نے ہر طرح کے رنگ ظاہر کر دیئے ہیں اور تفرقہ اپنے کمال کو پہنچ گیا ہے۔گو یا ایسا زمانہ ہے کہ ہر شخص کا ایک الگ مذہب ہے۔یہی امور دلالت کرتے ہیں کہ اب نفخ صور کا وقت بھی یہی ہے اور فَجَمَعْنَهُمْ جَمْعًا کی پیشگوئی کے پورا ہونے کا یہی زمانہ ہے۔( ملفوظات جلد پنجم صفحه 539-538) یہ کتاب جو قرآن شریف ہے یہ مجموع ان تمام کتابوں کا ہے جو پہلے بھیجی گئی تھیں۔اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ خدا نے پہلے متفرق طور پر ہر ایک امت کو جدا جدا دستور العمل بھیجا اور پھر چاہا کہ جیسا کہ ایک خدا ہے وہ بھی ایک ہو جائیں تب سب کو اکٹھا کرنے کے لئے قرآن کو بھیجا اور خبر دی کہ ایک زمانہ آنے والا ہے کہ خدا تمام قوموں کو ایک قوم بنا دے گا اور تمام ملکوں کو ایک ملک کر دے گا اور تمام زبانوں کو ایک زبان بنا دے گا۔سو ہم دیکھتے ہیں کہ دن بدن دنیا اس صورت کے قریب آتی جاتی ہے اور مختلف ملکوں کے تعلقات بڑھتے جاتے ہیں۔سیاحت کے لئے وہ سامان میسر آ گئے ہیں جو پہلے نہیں تھے۔خیالات کے مبادلہ کے لئے بڑی بڑی آسانیاں ہو گئی ہیں ایک قوم دوسری قوم میں ایسی پھنس گئی ہے کہ گویا وہ دونوں ایک ہونا چاہتی ہیں۔(نسیم دعوت۔ر-خ- جلد 19 صفحہ 429-428)