حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 374 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 374

374 انسانی فطرت کا پورا اور کامل عکس صرف قرآن شریف ہی ہے۔اگر قرآن نہ بھی آیا ہوتا جب بھی اسی تعلیم کے مطابق انسان سے سوال کیا جاتا کیونکہ یہ ایسی تعلیم ہے جو فطرتوں میں مرکوز اور قانون قدرت کے ہر صفحہ میں مشہور ہے۔جن کی تعلیمات ناقص اور خاص قوم تک محدود ہیں اور وہ آگے ایک قدم بھی نہیں چل سکتیں ان کی نبوت کا دروازہ بھی ان کے اپنے ہی گھر تک محدود ہے۔مگر قرآن شریف کہتا ہے اِن مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيرٌ (فاطر:25) دیکھو یہ کیسی پاک اور دل میں دخل کر جانے والی بات اور کیسا سچا اصول ہے مگر یہ لوگ ہیں کہ خدا کی خدائی کو صرف اپنے ہی گھر تک محدود خیال کرتے ہیں۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 655-654) قرآن کریم کی تعلیم کو جو دوسری تعلیموں پر کمال درجہ کی فوقیت ہے تو اس کی دو وجہ ہیں۔اول یہ کہ پہلے نبی اپنے زمانہ کے جمیع بنی آدم کے لئے مبعوث نہیں ہوتے تھے بلکہ وہ صرف اپنی ایک خاص قوم کیلئے بھیجے جاتے تھے جو خاص استعداد میں محدود اور خاص طور کے عادات اور عقائد اور اخلاق اور روش میں قابل اصلاح ہوتے تھے پس اس وجہ سے وہ کتابیں قانون مختص القوم کی طرح ہو کر صرف اسی حد تک اپنے ساتھ ہدایت لاتی تھیں جو اس خاص قوم کے مناسب حال اور انکے پیمانہ استعداد کے موافق ہوتی تھی۔دوسری وجہ یہ کہ ان انبیاء علیہم السلام کو ایسی شریعت ملتی تھی جو ایک خاص زمانہ تک محدود ہوتی تھی وہ اور خدا تعالیٰ نے ان کتابوں میں یہ ارادہ نہیں کیا تھا کہ دنیا کے اخیر تک وہ ہدائتیں جاری رہیں اسلئے و کتابیں قانون مختص الزمان کی طرح ہو کر صرف اسی زمانہ کی حد تک ہدایت لاتی تھیں جو ان کتابوں کی پابندی کا زمانہ حکمت الہی نے اندازہ کر رکھا تھا۔یہ دونوں قسم کے نقص جو ہم نے بیان کئے ہیں قرآن کریم بکلی ان سے مبرا ہے کیونکہ قرآن کریم کے اتارنے سے اللہ جل شانہ کا یہ مقصد تھا کہ وہ تمام بنی آدم اور تمام زمانوں اور تمام استعدادوں کی اصلاح اور تکمیل اور تربیت کر سکے اور اسلام کی پوری شکل اور پوری عظمت بنی آدم پر ظاہر ہو اور اسکے ظہور کا وقت بھی آ پہنچا تھا اسلئے خدا تعالیٰ نے قرآن مجید کو تمام قوموں اور تمام زمانوں کیلئے جو قیامت تک آنیوالے تھے ایک کامل اور جامع قانون کی طرح نازل فرمایا اور ہر یک درجہ کی استعداد کیلئے افادہ اور افاضہ کا دروازہ کھولدیا جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَ مِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ بِإِذْنِ اللهِ ذَلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ (الفاطر: 33) ( آئینہ کمالات اسلام۔رخ - جلد 5 صفحہ 128-127-126)