حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 370
370 بعثت حضرت اقدس علیہ السلام کے ذریعہ سے الصد اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق کہ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَفِظُوْنَ (الحجر: 10) قرآن شریف کی عظمت کو قائم کرنے کے لئے چودھویں صدی کے سر پر مجھے بھیجا۔(ملفوظات جلد اول صفحہ 433) لہذا اب یہ زمانہ ایسا زمانہ تھا کہ جو طبعا چاہتا تھا کہ جیسا کہ مخالفوں کے فتنہ کا سیلاب بڑے زور سے چاروں پہلوؤں پر حملہ کرنے کے لئے اٹھا ہے۔ایسا ہی مدافعت بھی چاروں پہلوؤں کے لحاظ سے ہو اور اس عرصہ میں چودھویں صدی کا آغاز بھی ہو گیا۔اس لئے خدا نے چودھویں صدی کے سر پر اپنے وعدہ کے موافق جو اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحْفِظُوْنَ ہے۔اس فتنہ کی اصلاح کے لئے ایک مجدد بھیجا مگر چونکہ ہر ایک مجدد کا خدا تعالیٰ کے نزدیک ایک خاص نام ہے اور جیسا کہ ایک شخص جب ایک کتاب تالیف کرتا ہے تو اس کے مضامین کے مناسب حال اس کتاب کا نام رکھ دیتا ہے۔ایسا ہی خدا تعالیٰ نے اس مجدد کا نام خدمات مفوضہ کے مناسب حال مسیح رکھا کیونکہ یہ بات مقرر ہو چکی تھی کہ آخر الزمان کے صلیبی فتنوں کی مسیح اصلاح کرے گا۔پس جس شخص کو یہ اصلاح سپرد ہوئی ضرور تھا کہ اس کا نام مسیح موعود در کھا جائے۔پس سوچو کہ يَكْسِرُ الصَّلِيْب کی خدمت کس کو سپرد ہے؟ اور کیا اب یہ وہی زمانہ ہے یا کوئی اور ہے؟ سوچو خدا تمہیں تھام لے۔ایام اسح۔رخ- جلد 14 صفحہ 290-289) قرآن کریم جس کا دوسرا نام ذکر ہے اس ابتدائی زمانہ میں انسان کے اندر چھپی ہوئی اور فراموش ہوئی ہوئی صداقتوں اور ودیعتوں کو یاد دلانے کے لئے آیا تھا۔اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ واثقہ کی رو سے کہ انا لَهُ لَحفِظُونَ اس زمانہ میں بھی آسمان سے ایک معلم آیا جو اخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ (الجمعة : 4 ) كا مصداق اور موعود ہے۔وہ وہی ہے جو تمہارے درمیان بول رہا ہے۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 60) یادرکھو کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کیلئے غیور ہے۔اس نے بیچ فرمایا ہے إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لحفظون (الحجر: 10) اس نے اس وعدہ کے موافق اپنے ذکر کی محافظت فرمائی اور مجھے مبعوث کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وعدہ کے موافق کہ ہر صدی کے سر پر مجدد آتا ہے اس نے مجھے صدی چہار دہم کا مجدد کیا جس کا نام کا سر الصلیب بھی رکھا ہے۔اگر ہم اس دعوی میں غلطی پر ہیں تو پھر سارا کاروبار نبوت کا ہی باطل ہوگا اور سب وعدے جھوٹے ٹھہریں گے اور پھر سب سے بڑھ کر عجیب بات یہ ہوگی کہ خدا تعالیٰ بھی جھوٹوں کی حمایت کرنے والا ثابت ہوگا (معاذ اللہ ) کیونکہ ہم اس سے تائیدیں پاتے ہیں اور اس کی نصرتیں ہمارے ساتھ ہیں۔( ملفوظات جلد دوم صفحه 371-370) وہ پاک وعدہ جس کو یہ پیارے الفاظ ادا کر رہے ہیں کہ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحَفِظُوْنَ وَهِ انہیں دنوں کے لئے وعدہ ہے جو بتلا رہا ہے کہ جب اسلام پر سخت بلا کا زمانہ آئے گا اور سخت دشمن اس کے مقابل کھڑا ہو گا اور سخت طوفان پیدا ہو گا تب خدائے تعالیٰ آپ اس کا معالجہ کرے گا اور آپ اس طوفان سے بچنے کے لئے کوئی کشتی عنایت کرے گا وہ کشتی اس عاجز کی دعوت ہے۔آئینہ کمالات اسلام - ر-خ- جلد 5 صفحہ 264 حاشیہ ) اس وقت میرے مامور ہونے پر بہت سی شہادتیں ہیں اول اندرونی شہادت دوم بیرونی شہادت سوم صدی کے سر پر آنے والے مجدد کی نسبت حدیث حج۔چہارم إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَفِظُوْنَ (الحجر: 10) کا وعدہ حفاظت۔( ملفوظات جلد دوم صفحه 360)