حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 371
371 حفاظت قرآن کریم۔تاثیرات کے ذریعہ سے قرآن شریف میں اگر تدبر کریں تو اس کی روشن حقیقت آپ کو معلوم ہو جائے گی۔توریت میں کوئی اثر باقی نہیں رہا۔ورنہ چاہیے تھا کہ ان میں اولیاء اللہ اور صلحاء ہوتے۔یہودی: چونکہ توریت پر عمل نہیں رہا۔اس لیے ولی اور صلحا نہیں ہوتے۔حضرت اقدس: اگر توریت میں کوئی تاثیر باقی ہوئی تو اسے ترک ہی کیوں کرتے ؟ اگر آپ کہیں کہ بعض نے ترک کیا ہے تو پھر بھی اعتراض بدستور قائم ہے کہ جنھوں نے ترک نہیں کیا۔ان پر جو اثر ہوا ہے وہ پیش کرو۔اور اگر کل ہی نے ترک کر دیا ہے تو یہ ترک تاثیر کو باطل کرتا ہے۔ہم قرآن شریف کے لیے یہی نہیں مانتے۔یہ سچ ہے کہ اکثر مسلمانوں نے قرآن شریف کو چھوڑ دیا ہے۔لیکن پھر بھی قرآن شریف کے انوار و برکات اور اس کی تاثیرات ہمیشہ زندہ اور تازہ بتازہ ہیں۔چنانچہ میں اس وقت اسی ثبوت کے لیے بھیجا گیا ہوں۔اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے اپنے وقت پر اپنے بندوں کو اس کی حمایت اور تائید کے لیے بھیجتا رہا ہے۔کیونکہ اس نے وعدہ فرمایا تھا۔إِنَّا نَحْنُ نُزِّلْنَا الذِكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحَافِظُون (الحجر: (10 ) یعنی بے شک ہم نے ہی اس ذکر ( قرآن شریف ) کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔قرآن شریف کی حفاظت کا جو وعدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وہ توریت یا کسی اور کتاب کے لیے نہیں۔اسی لیے ان کتابوں میں انسانی چالاکیوں نے اپنا کام کیا۔قرآن شریف کی حفاظت کا یہ بڑا ز بر دست ذریعہ ہے کہ اس کی تاثیرات کا ہمیشہ تازہ بتازہ ثبوت ملتا رہتا ہے اور یہود نے چونکہ توریت کو بالکل چھوڑ دیا ہے اور ان میں کوئی اثر اور قوت باقی نہیں رہی جو ان کی موت پر دلالت کرتی ہے۔ہے ( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 450) ہے ہے شکر رب عزوجل خارج از بیاں جس کے کلام سے ہمیں اس کا ملا نشاں وہ روشنی جو پاتے ہیں ہم اس کتاب میں ہو گی نہیں کبھی وہ ہزار آفتاب میں اس سے خدا کا چہرہ نمودار ہو گیا شیطاں کا مکر و وسوسہ بے کار ہو گیا وہ رہ جو ذات عزوجل کو دکھاتی وہ رہ جو دل کو پاک و مطهر بناتی وہ رہ جو یار گم شدہ کو کھینچ لاتی ہے وہ رہ جو جام پاک یقیں کا پلاتی ہے وہ رہ جو اس کے ہونے پر محکم دلیل ہے وہ راہ جو اس کے پانے کی کامل سبیل ہے اس نے ہر ایک کو وہی رستہ دکھا دیا جتنے شکوک و شبہ تھے سب کو مٹا دیا قرآں خدا نما ہے خدا کا کلام ہے! بے اس کے معرفت کا چمن ناتمام ہے ( در مشین اردو صفحہ 90-91 ) ( براہین احمدیہ۔رخ۔جلد 21 صفحہ 12-13)