حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 364 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 364

364 دسویں فصل حفاظت قرآن کریم إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَفِظُوْنَ۔(الحجر: 10) حفاظت قرآن کی قرآنی پیشگوئی اس کتاب کو ہم نے ہی نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ رہیں گے۔سو تیرہ سو برس سے اس پیشین گوئی کی صداقت ثابت ہو رہی ہے۔اب تک قرآن شریف میں پہلی کتابوں کی طرح کوئی مشر کا نہ تعلیم ملنے نہیں پائی اور آئندہ بھی عقل تجویز نہیں کر سکتی کہ اس میں کسی نوع کی مشر کا نہ تعلیم مخلوط ہو سکے کیونکہ لاکھوں مسلمان اسکے حافظ ہیں۔ہزار ہا اس کی تفسیریں ہیں۔پانچ وقت اس کی آیات نمازوں میں پڑھی جاتی ہیں۔ہر روز اس کی تلاوت کی جاتی ہے۔اسی طرح تمام ملکوں میں اس کا پھیل جانا کروڑ ہانسے اس کے دنیا میں موجود ہونا ہر ایک قوم کا اس کی تعلیم سے مطلع ہو جانا یہ سب امور ایسے ہیں کہ جن کے لحاظ سے عقل اس بات پر قطع واجب کرتی ہے کہ آئندہ بھی کسی نوع کا تغیر اور تبدل قرآن شریف میں واقع ہونا ممتنع اور محال ہے۔(براہین احمدیہ۔رخ۔جلد 1 صفحہ 102 حاشیہ نمبر 9) دو باتیں بڑی یا درکھنے والی ہیں ایک تو قرآن مجید کی حفاظت کی نسبت کہ روئے زمین پر ایک بھی ویسی کتاب نہیں جس کی حفاظت کا وعدہ خود اللہ کریم نے کیا ہو اور جس میں انا نحن نزلنا الذكر و انا له لحافظون۔(الحجر: 10) کا پرزور اور متحد یا نہ دعولی موجود ہو۔اور دوسرا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اخلاقی حالتوں کی نسبت۔کیونکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر ایک طرح کے اخلاق ظاہر کرنے کا موقعہ ملا۔حضرت موسیٰ کو دیکھو کہ وہ راستہ میں ہی فوت ہو گئے تھے اور حضرت عیسی تو ہمیشہ مغلوب ہی رہے۔معلوم نہیں اگر غالب ہوتے تو کیا کرتے۔مگر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر طرح سے اقتدار اور اختیار حاصل کر کے اپنے جانی دشمنوں اور خون کے پیاسوں کو اپنے سامنے بلا کر کہدیا۔لا تثریب علیکم اليوم (یوسف:93 ) ( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 338،339) تعریف : حفاظت قرآن اور قرآن کی حفاظت صرف اسی قدر نہیں جو اس کے صحف مکتو بہ کو خوب نگہبانی سے رکھیں کیونکہ ایسے کام تو اوائل حال میں یہود اور نصاری نے بھی کئے یہانتک کہ توریت کے نقطے بھی گن رکھے تھے۔بلکہ اس جگہ مع حفاظت ظاہری حفاظت فوائد و تاثیرات قرآنی مراد ہے اور وہ موافق سنت اللہ کے تبھی ہو سکتی ہے کہ جب وقتا فوقتا نائب رسول آویں جن میں ظلی طور پر رسالت کی تمام نعمتیں موجود ہوں اور جکو وہ تمام برکات دی گئی ہوں جو نبیوں کو دیجاتی ہوں جیسا کہ ان آیات میں اسی امر عظیم کی طرف اشارہ ہے اور وہ یہ ہے وَعَدَ اللَّهُ الَّذِيْنَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الأرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِى ارْتَضَى لَهُمْ وَ لَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنَا يَعْبُدُونَنِي لَايُشْرِكُوْنَ بِي شَيْئًا وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَالِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُوْنَ (النور: 56 )