حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 354 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 354

354 فَإِذَا سَوَّيْتُه وَ نَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُّوْحِى۔۔۔۔(الحجر: 30) اس آیت میں ایک عمیق راز کی طرف اشارہ ہے جو انتہائی درجہ کے کمال کا ایک نشان ہے اور وہ یہ کہ انسان ابتدا میں صرف صورت انسان کی ہوتی ہے مگر اندر سے وہ بیجان ہوتا ہے اور کوئی روحانیت اس میں نہیں ہوتی اور اس صورت میں فرشتے اس کی خدمت نہیں کرتے کیونکہ وہ ایک پوست بے مغز ہے لیکن بعد اس کے رفتہ رفتہ سعید انسان پر یہ زمانہ آ جاتا ہے کہ وہ خدا سے بہت ہی قریب جا رہتا ہے۔تب جب ٹھیک ٹھیک ذوالجلال کی روشنی کے مقابل پر اس کا نفس جا پڑتا ہے اور کوئی حجاب درمیان نہیں ہوتا کہ اس روشنی کو روک دے تو بلا توقف الوہیت کی روشنی جس کو دوسرے لفظوں میں خدا کی روح کہہ سکتے ہیں اس انسان کے اندر داخل ہو جاتی ہے اور وہی ایک خاص حالت ہے جس کی نسبت کلام الہی میں کہا گیا کہ خدا نے آدم میں اپنی روح پھونک دی۔اس حالت پر نہ کسی تکلف سے اور نہ ایسے امر سے جو شریعت کے احکام کے رنگ میں ہوتا ہے۔فرشتوں کو یہ حکم ہوتا ہے کہ اس کے آگے سجدہ میں گریں یعنی کامل طور پر اس کی اطاعت کریں گویا وہ اس کو سجدہ کر رہے ہیں۔یہ حکم فرشتوں کی فطرت کے ساتھ لگا ہوا ہوتا ہے۔کوئی مستحدث امر نہیں ہوتا۔یعنی ایسے شخص کے مقابل پر جس کا وجود خدا کی صورت پر آ جاتا ہے خود فرشتے طبعاً محسوس کر لیتے ہیں کہ اب اس کی خدمت کیلئے ہمیں کرنا چاہیئے اور ایسے قصے در حقیقت قصے نہیں ہیں بلکہ قرآن کریم میں عادت الہی اسی طرح واقع ہے کہ ان قصوں کے نیچے کوئی علم حقیقت ہوتی ہے۔پس اس جگہ یہی علمی حقیقت ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس قصے کے پیرایہ میں ظاہر کرنا چاہا ہے کہ کامل انسان کی نشانی کیا ہے۔تفسیر حضرت اقدس طبع اول جلد 5 صفحہ 128) ریویو آف ریجنز جلدانمبر 5 صفحہ 178،177 حاشیہ)