حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 347
347 آخری زمانہ کی پیشگوئیاں قرآن شریف کی رو سے سلسلہ محمد یہ سلسلہ موسویہ سے ہر ایک نیکی اور بدی میں مشابہت رکھتا ہے۔اسی کی طرف ان آیتوں میں اشارہ ہے کہ ایک جگہ یہود کے حق میں لکھا ہے۔فَيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ۔(الاعراف: 130) دوسری جگہ مسلمانوں کے حق میں لکھا ہے۔لِنَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ (يونس: 15) ان دونوں آیتوں کے یہ معنے ہیں کہ خدا تمہیں خلافت اور حکومت عطا کر کے پھر دیکھے گا کہ تم راستبازی پر قائم رہتے ہو یا نہیں۔ان آیتوں میں جو الفاظ یہود کے لئے استعمال کیے ہیں۔وہی مسلمانوں کے لئے۔یعنی ایک ہی آیت کے نیچے ان دونوں کو رکھا ہے۔پس ان آیتوں سے بڑھ کر اس بات کے لئے اور کونسا ثبوت ہوسکتا ہے۔کہ خدا نے بعض مسلمانوں کو یہود قرار دیدیا ہے اور صاف اشارہ کر دیا ہے کہ جن بدیوں کے یہود مرتکب ہوئے تھے یعنی علماء ان کے۔اس امت کے علماء بھی انہیں بدیوں کے مرتکب ہوں گے۔اور اسی مفہوم کی طرف آیت غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ (الفاتحة: 7) میں بھی اشارہ ہے۔(تذکرۃ الشہادتین۔ر۔خ۔جلد 20 صفحہ 13) ریل کی پیشگوئی جمعہ کی نماز سے پیشتر تھوڑی دیر حضرت اقدس علیہ السلام نے مجلس فرمائی۔ریل وغیرہ کی ایجاد سے جو فوائد بنی نوع انسان کو پہنچے ہیں ان کا ذکر ہوتا رہا۔اس پر حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ :۔انسانی صنعتوں کا انحصار خدا تعالیٰ کے فضل پر ہے۔ریل کے واسطے قرآن شریف میں دو اشارے ہیں۔اولاذَ النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ۔(التكوير:8) دوم - إِذَا الْعِشَارُ عُطِلَتْ۔(التكوير: 5 ) عشار حمل دار اونٹنی کو کہتے ہیں۔حمل کا ذکر اس لئے کیا تا کہ معلوم ہو جاوے کہ قیامت کا ذکر نہیں ہے۔صرف قرینہ کے واسطے یہ لفظ لکھا ہے ورنہ ضرورت نہ تھی۔اگر پیشگوئیوں کا صدق اس دنیا میں نہ کھلے تو پھر اس کا فائدہ کیا ہوسکتا ہے اور ایمان کو کیا ترقی ہو؟ بیوقوف لوگ ہر ایک پیشگوئی کو صرف قیامت پر لگاتے ہیں اور جب پوچھو تو کہتے ہیں کہ اس دنیا کی نسبت کوئی پیشگوئی قرآن شریف میں نہیں ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 348)