حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 301 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 301

301 حضرت اقدس کا ذکر قرآن کریم کی آخری تین سورتوں میں یکجا طور پر سورۃ اخلاص سورۃ فلق۔سورۃ الناس سواب یہ وہی فتنہ کا زمانہ ہے جس میں تم آج ہو۔تیرہ سو برس کی پیشگوئی جو سورۃ فاتحہ میں تھی آج تم میں اور تمہارے ملک میں پوری ہوئی اور اس فتنہ کی جڑ مشرق ہی نکلا۔اور جیسا کہ اس فتنہ کا ذکر قرآن کے ابتداء میں فرمایا گیا۔ایسا ہی قرآن شریف کے انتہا میں بھی ذکر فرما دیا تا یہ امر موکد ہو کر دلوں میں بیٹھ جائے۔ابتدائی ذکر جو سورہ فاتحہ میں ہے وہ تو تم بار بارسن چکے ہو۔اور انتہائی ذکر یعنی جو قرآن شریف کے آخر میں اس فتنہ عظیمہ کا ذکر ہے اس کی ہم کچھ اور تفصیل کر دیتے ہیں۔چنانچہ وہ سورتیں یہ ہیں۔(1 - سورة ( قل هو الله احده الله لصمد لم يلد ولم يولده ولم يكن له كفوا احد۔(2- سورة ) قل اعوذ برب الفلق من شر ما خلق ومن شر غاسق اذا وقب ال ومن شر النفثت فى العقد ومن شر حاسد اذا حسده (3- سورة ) قل اعوذ برب الناس ملك الناس اله الناس من شر الوسواس الخنّاس الذي يوسوس في صدور الناس من الجنة والناس ترجمہ: تم اے مسلمانو ! نصاری سے کہو کہ وہ اللہ ایک ہے۔اللہ بے نیاز ہے نہ اس سے کوئی پیدا ہوا اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ کوئی اس کے برابر کا ہے۔اور تم جو نصاری کا فتنہ دیکھو گے اور مسیح موعود کے دشمنوں کا نشانہ بنو گے یوں دعا مانگا کرو کہ میں تمام مخلوق کے شر سے جو اندرونی اور بیرونی دشمن ہیں اس خدا کی پناہ مانگتا ہوں جو صبح کا مالک ہے۔یعنی روشنی کا ظاہر کرنا اس کے اختیار میں ہے اور میں اس اندھیری رات کے اس شر سے جو عیسائیت کے فتنہ اور انکار مسیح موعود کے فتنہ کی رات ہے خدا کی پناہ مانگتا ہوں۔اس وقت کے لئے یہ دعا ہے جبکہ تاریکی اپنے کمال کو پہنچ جائے۔اور میں خدا کی پناہ ان زن مزاج لوگوں کی شرارت سے مانگتا ہوں جو گنڈوں پر پڑھ پڑھ کر پھونکتے ہیں