حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 300
300 کے اول یعنی سورہ فاتحہ کو ولا الضالین پر ختم کیا۔یہ امر تمام مفسر بالا تفاق مانتے ہیں کہ ضالین سے عیسائی مراد ہیں اور آخر جس پر ختم ہوا وہ یہ ہے قُلْ اَعُوذُ بِرَب النَّاسِ مَلِكِ النَّاسِ إِلَهِ النَّاسِ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ الَّذِي يُوَسُوسُ فِي صُدُور النَّاس - مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ۔سورہ الناس سے پہلے قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ میں خدا تعالیٰ کی توحید بیان فرمائی اور اس طرح پر گویا تثلیث کی تردید گی۔اس کے بعد سورۃ الناس کا بیان کر ناصاف ظاہر کرتا ہے کہ عیسائیوں کیطرف اشارہ ہے۔پس آخری وصیت یہ کی شیطان سے بچتے رہو۔یہ شیطان و ہی نحاش ہے جس کو اس سورت میں خناس کہا۔جس سے بچنے کی ہدایت کی۔اور یہ جو فر مایا کہ رب کی پناہ میں آؤ اس سے معلوم ہوا کہ یہ جسمانی امور نہیں ہیں بلکہ روحانی ہیں۔خدا کی معرفت ، معارف اور حقائق پر پکے ہو جاؤ تو اس سے بچ جاؤ گے اس آخری زمانہ میں شیطان اور آدم کی آخری جنگ کا خاص ذکر ہے۔شیطان کی لڑائی خدا اور اس کے فرشتوں سے آدم کے ساتھ ہو کر ہوتی ہے۔اور خدا تعالیٰ اس کے ہلاک کرنے کو پورے سامان کے ساتھ اترے گا اور خدا کا مسیح اس کا مقابلہ کرے گا یہ لفظ شیح ہے جس کے معنی خلیفہ ہیں عربی اور عبرانی ہیں۔حدیثوں میں مسیح لکھا ہے اور قرآن شریف میں خلیفہ لکھا ہے۔غرض اس کیلئے مقدر تھا کہ اس آخری جنگ میں خاتم الخلفاء جو چھٹے ہزار کے آخر میں پیدا ہو۔کامیاب ہو۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 144) سورۃ الفلق اور الناس میں مسیح موعود کے زمانے کا ذکر ہے غرض سورہ تبت میں غیر المغضوب علیہم کے فتنہ کی طرف اشارہ ہے اور وَلَا الضَّالِينَ کے مقابل قرآن شریف کے آخر میں سورہ اخلاص ہے اور اسکے بعد کی دونوں سورتیں سورۃ الفلق سورۃ الناس اوران دونوں کی تفسیر ہیں۔ان دونوں سورتوں میں تیرہ و تار زمانہ سے پناہ مانگی گئی ہے۔جبکہ مسیح موعود پر کفر کا فتویٰ لگا کر مغضوب علیہم کا فتنہ پیدا ہوگا اور عیسائیت کی ضلالت اور ظلمت دنیا پر محیط ہونے لگے گی پس جیسے سورہ فاتحہ جو ابتدائے قرآن ہے ان دونوں بلاؤں سے محفوظ رہنے کی دعا سکھائی گئی ہے اسی طرح قرآن شریف کے آخر میں بھی ان فتنوں سے محفوظ رہنے کی دعا تعلیم کی تاکہ یہ ثابت ہو جاوے کہ اول بآخر نسبتے دارد۔( ملفوظات جلد دوم صفحه 169) کہو کہ تم یوں دعا مانگا کرو کہ ہم وسوسہ انداز شیطان کے وسوسوں سے جولوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے اور ان کو دین سے برگشتہ کرنا چاہتا ہے کبھی بطور خود اور کبھی کسی انسان میں ہوکر خدا کی پناہ مانگتے ہیں۔وہ خدا جو انسانوں کا پرورندہ ہے ، انسانوں کا بادشاہ ہے، انسانوں کا خدا ہے ، یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایک زمانہ آنے والا ہے جو اس میں نہ ہمدردی انسانی رہے گی جو پرورش کی جڑ ہے اور نہ سچا انصاف رہے گا جو بادشاہت کی شرط ہے تب اس زمانے میں خدا ہی خدا ہو گا جو مصیبت زدوں کا مرجع ہوگا یہ تمام کلمات آخری زمانہ کی طرف اشارات ہیں جب کہ امان اور امانت دنیا سے اٹھ جائے گی۔(تحفہ گولڑویہ۔رخ جلد 17 صفحہ 221 تا 222)