حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 299
299 حضرت اقدس مثیل آدم ہیں جیسے سورہ فاتحہ کو الضالین پر ختم کیا تھا ویسے آخری سورۃ میں خناس کے ذکر پر ختم کیا تا کہ خناس اور ضالین کا تعلق معلوم ہو اور آدم کے وقت میں بھی خناس جس کو عبرانی زبان میں نخاش کہتے ہیں جنگ کے لئے آیا تھا اس وقت بھی مسیح موعود کے زمانہ میں جو آدم کا مثیل بھی ہے ضروری تھا کہ وہی شخاش ایک دوسرے لباس میں آتا اور اسی لئے عیسائیوں اور مسلمانوں نے باتفاق یہ بات تسلیم کی ہے کہ آخری زمانہ میں آدم اور شیطان کی ایک عظیم الشان لڑائی ہو گی جس میں شیطان ہلاک کیا جاوے گا۔اب ان تمام امور کو دیکھ کر ایک خدا ترس آدمی ڈر جاتا ہے۔کیا یہ میرے اپنے بنائے ہوئے امور ہیں جو خدا نے جمع کر دیئے ہیں۔کس طرح ایک دائرہ کی طرح خدا نے اس سلسلہ کو رکھا ہوا ہے۔وَلَا الصَّالِينَ پر سورت فاتحہ کو جو قرآن کا آغاز ہے ختم کیا اور پھر قرآن شریف کے آخر میں وہ سورتیں رکھیں جن کا تعلق سورت فاتحہ کے انجام سے ہے۔ادھر مسیح اور آدم کی مماثلث ٹھہرائی اور مجھے مسیح موعود بنایا تو ساتھ ہی آدم بھی میرا نام رکھا۔یہ باتیں معمولی باتیں نہیں ہیں یہ ایک علمی سلسلہ ہے جس کو کوئی رد نہیں کر سکتا کیونکہ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے اس کی بنیا درکھی ہے۔دجال سے مراد نصاری کا گروہ ہے ( ملفوظات جلد دوم صفحه 170 ) بڑی غور طلب بات یہ ہے کہ قرآن شریف نے ابتداء میں بھی ان (عیسائیوں ) کا ذکر کیا ہے جیسے کہ وَلَا الضالین پر سورہ فاتحہ کوختم کیا اور پھر قرآن شریف کو بھی اسی پر تمام کیا کہ قُلْ هُوَ الله سے لے کر قُلْ اَعُوْذُ برب الناس تک غور کرو اور وسط قرآن میں بھی ان کا ہی ذکر کیا اور تكَادُ السَّمَوَاتِ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ (مریم: 91) کہا۔بتاؤ اس دجال کا بھی کہیں ذکر کیا جس کا ایک خیالی نقشہ اپنے دلوں میں بنائے بیٹھے ہیں۔پھر حدیث میں آیا ہے کہ دجال کے لئے سورہ کہف کی ابتدائی آئیں پڑھو اس میں بھی ان کا ہی ذکر ہے۔اور احادیث میں ریل کا بھی ذکر ہے۔غرض جہاں تک غور کیا جاوے بڑی وضاحت کے ساتھ یہ امر ذہن میں آجاتا ہے کہ دجال سے مراد یہی نصاریٰ کا گروہ ہے۔دجال مسیح موعود کے مقابلہ میں ہلاک ہوگا ( ملفوظات جلد دوم صفحه 352) جن وہ ہے جو چھپ کر وار کرے اور پیار کے رنگ میں دشمنی کرتے ہیں۔وہی پیار جو حوا سے آکر نحاش نے کیا تھا۔اس پیار کا انجام وہی ہونا چاہیے جو ابتداء میں ہوا۔آدم پر اس سے مصیبت آئی۔اس وقت وہ گویا خدا سے بڑھ کر خیر خواہ ہو گیا۔اسیطرح یہ بھی وہی حیات ابدی پیش کرتے ہیں جو شیطان نے کی تھی۔اس لئے قرآن شریف نے اول اور آخر اس پر ختم کیا۔اس میں یہ سر تھا کہ تا بتا یا جاوے کہ ایک آدم آخر میں بھی آنے والا ہے۔قرآن شریف