حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 275
275 وَالَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ (1918) وَلِكُلِّ كَمَالٍ زَوَالٌ وَلِكُلِّ تَرَعْرُعِ اِضْمِحْلَالٌ كَمَا تَرَى أَنَّ السَّيْلِ إِذَا وَصَلَ إِلَى الْجَبَلِ الرَّاسِي وَقَفَ۔وَالَّيْلُ إِذَا بَلَغَ إِلَى الصُّبْحِ الْمُسْفِرِ انْكَشَفَ۔كَمَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى وَالَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ ، فَجَعَلَ تَنفُسَ الصُّبْحِ كَامُرِ لاَ زِمٍ بَعْدَ كَمَالِ ظُلُمَاتِ الَّيْلِ۔۔۔۔فَأَرَادَ اللَّهُ أَنَّ يَرُدَّ إِلَى الْمُؤْمِنِينَ أَيَّامَهُمُ الْأَوْلَى وَأَنْ يُرِ يَهُمْ أَنَّهُ رَبُّهُمْ وَأَنَّهُ الرَّحْمَنُ وَالرَّحِيمُ وَمَالِكُ يَوْمٍ فِيْهِ يُجْزِى وَيُبْعَثُ فِيْهِ الْمَوْتَى۔(ترجمه از مرتب) ہر کمال کو آخر زوال دیکھنا پڑتا ہے۔اسی طرح ہر ترقی کے بعد تنزل کا دور آتا ہے۔جیسا کہ تم دنیا میں مشاہدہ کرتے ہو کہ جب سیلاب بلند پہاڑوں تک پہنچتا ہے تو رک جاتا ہے۔اور رات جب روشن صبح تک پہنچتی ہے تو اس کی تاریکی ختم ہو جاتی ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔وَالَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ ہم رات کو شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں جب وہ خاتمہ کو پہنچ جاتی ہے اور صبح کو جب وہ سانس لینے لگتی ہے۔اس آیہ کریمہ میں رات کے اندھیروں کے کمال تک پہنچنے کے بعد صبح کے ظاہر ہونے کو لازم قرار دیا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا ہے کہ وہ مومنوں پر پہلے ترقی کے زمانہ کو لوٹادے اور ان کو دکھا دے کہ ان کا ایک قادر رب ہے جو رحمن اور رحیم ہے اور اس دن کا مالک ہے جب سب لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا اور جس میں مردے زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے۔(اعجاز مسیح - رخ جلد 18 صفحہ 158 تا159) سورة الانفطار اِذَا السَّمَاءُ انْفَطَرَتْ وَإِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرتُ۔وَإِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْ۔(2 تا 4) اس زمانہ کی علامات میں جبکہ ارضی علوم و فنون زمین سے نکالے جائیں گے بعض ایجادات اور صناعات کو بطور نمونہ کے بیان فرمایا ہے اور وہ یہ ہے وَإِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَت۔اور جس وقت دریا چیرے جاویں گے یعنی زمین پر نہریں پھیل جائیں گی اور کاشت کاری کثرت سے ہوگی۔وَإِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَشَرتُ اور جس وقت تارے جھڑ جائیں گے یعنی ربانی علماء فوت ہو جائیں گے کیونکہ یہ تو ممکن ہی نہیں کہ زمین پر تارے گریں اور پھر زمین پر لوگ آبادرہ سکیں۔یادر ہے مسیح موعود کے آنے کے لئے اسی قسم کی پیشگوئی انجیل میں بھی ہے کہ وہ اس وقت آئیگا کہ جب زمین پر تارے گر جائیں گے اور سورج اور چاند کا نور جاتا رہے گا۔اور ان پیشگوئیوں کو ظاہر پر حمل کرنا اس قدر خلاف قیاس ہے کہ کوئی دا نا ہر گز یہ تجویز نہیں کرے گا کہ در حقیقت سورج کی روشنی جاتی رہے گی اور ستارے زمین پر گر پڑیں اور پھر زمین بدستور آدمیوں سے آباد ہو اور اس حالت میں مسیح موعود آوے۔۔۔ایسا ہی فرمايا - إِذَا السَّمَاءُ انفطرت اور انجیل میں بھی اس کے مطابق مسیح موعود کے آنے کی خبر دی ہے مگر ان آیتوں سے یہ مراد نہیں ہے کہ در حقیقت اس وقت آسمان پھٹ جائے گا یا اس کی قوتیں سست ہو جائیں گی بلکہ مدعا یہ ہے