حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 263
263 ہر ہر طرف سے پڑ رہے ہیں دینِ احمد پر تبر کیا نہیں تم دیکھتے قوموں کو اور انکے وہ وار کونی آنکھیں جو اس کو دیکھ کر روتی نہیں کون سے دل ہیں جو اس غم سے نہیں ہیں بے قرار کھا رہا ہے دیں طمانچے ہاتھ سے قوموں کے آج اک تزلزل میں پڑا اسلام کا عالی منار یہ مصیبت کیا نہیں پہنچی خدا کے عر ش تک کیا یہ شمس الدیں نہاں ہو جا ئیگا اب زیر غار جنگ روحانی ہے اب اس خادم و شیطان کا دل گٹھا جا تا ہے یا رب سخت ہے یہ کارزار ہر نبی وقت نے اس جنگ کی دی تھی خبر کرگئے وہ سب دعا ئیں با دو چشم اشکبار اے خدا شیطاں پہ مجھکو فتح دے رحمت کے ساتھ وہ اکٹھی کر رہا ہے اپنی فو جیں بے شمار جنگ یہ بڑھ کر ہے جنگ روس اور جاپان سے میں غریب اور ہے مقابل پر حریف نامدار دل نکل جا تا ہے قابو سے یہ مشکل سوچ کر اے مری جاں کی پنہ فوج ملا تک کو اتار مانگنا بے کار ہے اب ہماری ہے تری درگاہ میں یا رب پکار (در مشین اردو صفحه 141 ) ( براہین احمدیہ۔رخ جلد 21 صفحہ 149) نسل انساں سے مدد اب۔حضرت اقدس کے وقت کی پیشگوئی قَدْ وَعْدَ اللهُ عِنْدَ الْفِتْنَةِ الْعُظمى فِي آخِرِ الزَّمَانِ وَالْبَلِيَّةِ الْكُبْرَى قَبْلَ يُوْمِ الدِّيَانِ أَنَّهُ يَنْصُرُ دِينَهُ مِنْ عِنْدِهِ فِي تِلْكَ الأَيَّامِ وَهُنَاكَ يَكُونَ الْإِسْلَامُ كَالْبَدْرِ التَّامِ وَإِلَيْهِ اَشَارَا لِلَّهُ سُبْحَانَهُ فِى قَوْلِهِ وَنُفِخَ فِى الصُّورِ فَجَمَعْنَاهُمْ جَمْعًا وَ قَدْ اَخْبَرَ فِي آيَةٍ هِيَ قَبْلَ هَذِهِ الْآيَةِ مِّنْ تَفْرِقَةٍ عَظِيمَةٍ بِقُوْلِهِ تَرَ كُنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍيَّمُوجُ فِي بَعْضٍ ثُمَّ بَشَّرَ بِقَوْلِهِ وَ نُفِخَ فِي الصُّوْرِ بِجَمْعٍ بَعْدَ اتَّفْرِقَةِ فَلَا يَكُونُ هَذَا الْجَمْعُ إِلَّا فِي مِائَةِ الْبَدْرِ لِيَدُلُّ لَصُّورَةُ عَلَى مَعْنَا هَا كَمَا كَانَتِ التَّصْرَةُ الأولى بِبَدْرٍ فَهَا تَانِ بِشَارَتَانِ لِلْمُؤْمِنِينَ وَتَبْرُ قَان كَدُرَّةٍ فِي الْكِتَابُ الْمُبِينِ۔خدا نے وعدہ فرمایا ہے کہ جب کہ آخر زمانہ میں بڑا بھاری فتنہ اور بلا قیامت سے پہلے ظاہر ہوگی ان دنوں میں اپنی طرف سے اپنے دین کی مدد اور تائید فرمائے گا اور اس زمانہ میں اسلام بدر کامل کی طرح ہو جائے گا اور اسی کی طرف اشارہ ہے اس قول میں وَ نُفِخَ فِي الصُّورِ فَجَمَعْنَاهُمْ جَمْعًا۔اور اس آیت سے ایک بڑے تفرقے کی خبر دی جہاں کہ فرمایا ہے وَتَرَكْنَا بَعْضَهُم الخ پھر نُفِخَ فِى الصُّور کے قول سے بشارت دی کہ اس پراگندگی کے بعد جمعیت حاصل ہوگی پس یہ جمعیت حاصل نہ ہوگی مگر بدر کی صدی میں تاکہ صورت اپنے معانی پر دلالت کرے جیسا کہ پہلی نصرت بدر میں وقوع میں آئی۔پس یہ دو خوش خبریاں مومنوں کے لئے ہیں اور موتی کی طرح کتاب مبین میں چمکتی ہیں۔(خطبہ الہامیہ۔رخ جلد 16 صفحہ 286 تا288)