حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 262 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 262

262 ( ترجمه از مرتب ) اور وہ آفات جن کا ظہور مسیح موعود کے وقت کے لئے مقدر تھا ان میں سے سب سے بڑی آفت یا جوج ماجوج اور بے شرم دجال کا خروج ہے اور وہ مسلمانوں کیلئے فتنہ ہیں جبکہ مسلمانوں نے خدا تعالیٰ کی نافرمانی کی اور خدائے و دود سے انحراف کیا۔اور یہ ایک بڑی بلا ہے جو مسلمانوں پر اس طرح مسلط کی گئی ہے جس طرح یہود پر مسلط کی گئی تھی اور جان لو کہ یہ یاجوج اور ماجوج ایسی قومیں ہیں جو اپنی لڑائیوں میں نیز مصنوعات میں آگ اور اس کے شعلوں کا استعمال کرتی ہیں اور اسی بنا پر ان دونوں کے یہ نام رکھے گئے ہیں کیونکہ اجیج آگ کی صفت ہے اور اسی طرح ان کی جنگ آتشیں اسلحہ کے ذریعہ ہوتی ہے اور اسی طریق سے وہ تمام زمین والوں پر جنگ میں غالب آرہے ہیں اور وہ ہر بلندی سے پھلا نگتے پھرتے ہیں۔انہیں نہ کوئی سمندر روک رہا ہے اور نہ کوئی پہاڑ۔بادشاہ ان کے سامنے خوف کے مارے سر بسجو د ہو جاتے ہیں اور کسی کو ان سے مقابلہ کی طاقت نہیں اور وہ بادشاہ موعود وقت تک ان کے پاؤں تلے روندے جائیں گے۔اور جو شخص ان دونوں پتھروں کے درمیان آجائے گا خواہ وہ کتنا بڑا بادشاہ ہی کیوں نہ ہو وہ اس طرح پیسا جائے گا۔جس طرح دانے چکی میں پیسے جاتے ہیں اور انکی وجہ سے زمین میں زلزلے آتے رہیں گے۔اسکے پہاڑ حرکت کریں گے اور اس کی گمراہی پھیل جائے گی اور اس وقت کوئی دعا قبول نہ ہوگی اور نہ عرش تک آہ وفغاں پہنچے گی اور مسلمانوں پر ایسی مصیبت آئے گی جو ان کے اموال اقبال اور عزتوں کو کھا جائے گی اور اسلامی بادشاہوں کے پردے پھاڑ دے گی اور لوگوں پر ظاہر ہو جائے گا کہ وہ خدا تعالیٰ کی نافرمانی اور جرم کرنے کی وجہ سے اس کے غضب کے مورد ہیں اور انکا رعب شوکت اور جلال ان سے چھن جائے گا کیونکہ وہ تقویٰ اختیار نہیں کرتے۔اگر وہ دشمنوں کا ایک طریق سے مقابلہ کریں گے تو سات طریقوں سے ان کے مقابلہ میں شکست کھائیں گے کیونکہ وہ نیکو کار نہ تھے وہ صرف لوگوں کے دکھاوے کی خاطر کام کرتے تھے۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی سنت کی پیروی نہیں کرتے تھے اور نہ دین داری اختیار کرتے تھے۔اور وہ محض ڈھانچے ہیں جن میں کوئی روح نہیں۔پس اللہ تعالیٰ ان کی طرف رحمت کی نگاہ سے نہ دیکھے گا اور نہ مدد ئیے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ تو ان پر رجوع برحمت ہونا چاہے گا بشرطیکہ وہ تضرع اختیار کریں مگر نہ انہوں نے توبہ کی اور نہ تضرع اختیار کیا۔پس ان مجرموں پر وبال وارد ہوا سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے خشوع و خضوع اختیار کیا اور وہ مجرمین ملعونوں کی طرح شب وروز مصائب کو دیکھیں گے۔تب اس وقت مسیح موعود اپنے رب الجلیل کے حضور کھڑا ہوگا اور رات بھر آہ و بکا کے ساتھ اللہ تعالٰی سے دعا کرے گا اور اسی طرح پکھل جائے گا جس طرح آگ پر برف پگھل جاتی ہے اور اس مصیبت کی وجہ سے جو ملک پر نازل ہو چکی ہوگی گریہ وزاری کرے گا اور اللہ تعالیٰ کو بہتے ہوئے اشکوں سے یاد کرے گا تب اس کی دعاسنی جائے گی اور اس کے بلند مقام کی وجہ سے جو اسے اپنے رب کے حضور حاصل ہے اور پناہ دینے والے فرشتے نازل ہوں گے اور اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی تجلی کریگا اور لوگوں کو مصیبت سے نجات دے گا تب اس وقت مسیح موعود کو زمین پر بھی اسی طرح پہچانا جائے گا جس طرح وہ آسمان پر پہچانا گیا اور اس وقت اسے عوام اور امراء کے دلوں میں قبولیت حاصل ہوگی یہاں تک کہ بادشاہ اس کے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ اور اس کی جناب سے ہوگا اور لوگوں کی نگاہ میں عجیب۔