حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page xxviii of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page xxviii

XXV اس بنا پر خاکسار سمجھتا ہے کہ اس باب کا تفصیلی مطالعہ حضرت اقدس کی تفہیمات قرآنیہ سے حقیقی فائدہ حاصل کرنے کے لئے از بس ضروری ہے۔اس کے بعد دیگر ابواب آتے ہیں جن کو کتاب کی فہرست مضامین میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔جو علمی اور ادبی کام انتخاب کی نوعیت کے ہوتے ہیں ان میں دستور یہی ہے کہ وہ کام صرف اور صرف اسی کی محنت ہو جس نے انتخاب پیش کیا ہے۔اس لئے کوشش اور محنت کے اعتبار سے یہ عرض کرنا ہے کہ حضرت اقدس کی کتب کا مطالعہ اور آپ کے فرمودات کے موضوعات کی تعیین اور اقتباسات کا چناؤ خالصۂ خاکسار کی عاجزانہ اور محبت بھری غلامانہ خدمت ہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو قبول فرمائے اور حضرت اقدس علیہ السلام خاکسار کو اپنے غلاموں میں شمار فرمائیں اور بقول حافظ شیرازی اس طور سے حکم صادر فرمائیں۔ز حاجب در خلوت سرائے خاص بگو فلاں از گوشه نشینان خاک درگه ماست اپنی خلوت سرائے خاص کے دربان کو حکم دو کہ فلاں تو میری درگاہ کے خاک نشینوں میں سے ہے۔) اس تالیف کے خدمت گزاروں کے ذکر میں چند نام اور بھی ہیں۔اول میجر (ریٹائرڈ) چوہدری سعید احمد صاحب ابن چوہدری محمد بوٹا صاحب مرحوم ہیں۔آپ نے اس ہیں پچیس سالہ کام کے مسودات کو ترتیب دینے میں اور حوالہ جات کو اصل کتب حضرت اقدس کی طرف منتقل کرنے میں بہت مدد کی ہے۔یہ کام بہت محنت اور احتیاط کا تھا۔آپ نے بہت محبت اور لگن سے اس کام کو سرانجام دیا ہے۔دوسرا نام چوہدری محمد اور لیس احمد صاحب ابن محترم محمد اسماعیل صاحب دیا لگڑھی مرحوم کا ہے۔آپ نے چوہدری سعید احمد کے ساتھ مل کر اس نعیم کتاب کے متن کی اصلاح کی غرض سے حضرت کی کتب سے اقتباسات کا موازنہ کیا ہے اور کتابت کی اغلاط کی اصلاح کے لئے Proof Reading کا کام بھی کیا ہے۔یہ دونوں کام بھی بہت محنت طلب اور احتیاط کے طلبگار تھے۔خاکساران دونوں عاشقان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بہت شکر گزار ہے۔اللہ تعالیٰ ان دونوں کو جزائے خیر دے اور اپنی محبت سے نوازے۔آمین Composing اور Setting یہ دو کام بھی بہت نازک اور توجہ طلب تھے۔محترم کرامت الرحمن صاحب اور طاہر محمود احمد صاحب (مربی سلسلہ ) نے یہ خدمت بہت محبت اور محنت سے ادا کی ہے۔اللہ تعالیٰ ان دونوں کو جزا دے۔آمین خدمت گزاروں میں ایک نام محترم مولنا محمد سعید انصاری مبلغ احمدیت کا ہے۔آپ نے حضرت اقدس کے عربی اور فارسی زبانوں کے وہ اقتباسات جن کا ترجمہ اصل کتب میں نہیں تھا، اس تالیف کے لئے ان کا ترجمہ کیا اور اپنی دعاؤں سے ہمارے کام کی مدد فرمائی۔اللہ جزائے خیر دے۔آمین