حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 239
239 وَالْمُرُ سَلَتِ عُرُ فَا فَالْعَصِفْتِ عَصْفًا وَّالنَّشِرَاتِ نَشْرًا فَالْفَرِقَتِ فَرُقًاه فَالْمُلْقِيتِ ذِكْرًاه عُدْرًا اَوْنُذُرًا (المرسلت : 2 تا 7) اس آیت قرآن کریم میں اس زمانہ اور طاعون کے متعلق پیشگوئی ہے۔قسم ہے ان ہواؤں کی جو آہستہ آہستہ چلتی ہیں۔یعنی پہلا وقت ایسا ہوگا کہ کوئی کوئی واقعہ طاعون کا ہو جایا کرے پھر وہ زور پکڑے اور تیز ہو جاوے۔پھر وہ ایسی ہو کہ لوگوں کو پراگندہ کر دے اور پریشان خاطر کر دے۔پھر ایسے واقعات ہوں کہ مومن اور کافر کے درمیان فرق اور تمیز کر دیں۔اس وقت لوگوں کو سمجھ آجائے گی کہ حق کس امر میں ہے۔آیا اس امام کی اطاعت میں یا اس کی مخالفت میں۔یہ سمجھ میں آنا بعض کے لئے صرف حجت کا موجب ہوگا۔(عُذرًا ) یعنی مرتے مرتے اُن کا دل اقرار کر جائے گا کہ ہم غلطی پر تھے اور بعض کے نزدیک ( نذرا) یعنی ڈرانے کا موجب ہوگا کہ وہ تو بہ کر کے بدیوں سے باز آویں۔(ملفوظات جلد دوم صفحه 204) وَإِنْ مِّنْ قَرْيَةٍ إِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيمَةِ أَوْ مُعَذِّبُوهَا عَذَابًا شَدِيدًا ، كَانَ ذَلِكَ فِي الْكِتب مَسْطُورًا (بنی اسرائیل: 59) ط قرآن شریف میں بھی پیشگوئی ہے۔وَإِن مِنْ قَرْيَةٍ إِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيمَةِ أَوْ مُعَذِّبُوهَا عَذَابًا شَدِيدًا یعنی کوئی ایسی بستی نہیں جس کو ہم قیامت سے پہلے ہلاک نہ کریں یا اُس پر شدید عذاب نازل نہ کریں گے یعنی آخری زمانہ میں ایک سخت عذاب نازل ہوگا اور دوسری طرف یہ فرمایا وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُوْلاً پس اس سے بھی آخری زمانہ میں ایک رسول کا مبعوث ہونا ظاہر ہوتا ہے اور وہی مسیح موعود ہے۔(حقیقۃ الوحی۔رخ جلد 22 صفحہ 500) پھر مسیح موعود کے وقت کا ایک نشان طاعون تھا۔انجیل توریت میں بھی یہ نشان موجود تھا اور قرآن شریف سے بھی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ نشان مسیح موعود کا خدا تعالی نے ٹھہرایاتھا۔چنانچہ فرمایاوان مِنْ قَرْيَةٍ إِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوهَا یہ باتیں معمولی نہیں ہیں بلکہ غور سے سمجھنے کے لائق ہیں اور اب دیکھ لو کہ طاعون ملک میں پھیلی ہوئی ہے یا نہیں؟ اس سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 14)