حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 220
220 گیا کہ جیسے اسلام میں سر دفتر الہی خلیفوں کا مثیل موسیٰ ہے جو اس سلسلہ اسلامیہ کا سپہ سالار اور بادشاہ اور تخت عزت کے اول درجے پر بیٹھنے والا اور تمام کا مصدر اور اپنی روحانی اولاد کا مورث اعلیٰ ہے صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی اس سلسلہ کا خاتم باعتبار نسبت تامہ وہ مسیح عیسی ابن مریم ہے جو اس امت کے لوگوں میں سے بحکم ربی مسیحی صفات سے رنگین ہو گیا ہے اور فرمان جَعَلْنَكَ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ نے اس کو در حقیقت وہی بنا دیا ہے وَ كَانَ اللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرًا اور اس آنے والے کا نام جو احمد رکھا گیا ہے وہ بھی اس کے مثیل ہونے کی طرف اشارہ ہے کیونکہ محمد جلالی نام ہے اور احمد جمالی اور احمد اور عیسی اپنے جمالی معنوں کی رو سے ایک ہی ہیں۔اسی کی طرف یہ اشارہ ہے وَ مُبَشِّرًا بِرَسُوْلِ يَأْتِي مِنْ بَعْدِى اسْمُهُ أَحْمَدَ مگر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فقط احم ہی نہیں بلکہ حمد بھی ہیں یعنی جامع جلال و جمال ہیں لیکن آخری زمانہ میں برطبق پیشگوئی مجر احمد جو اپنے اندر حقیقت عیسویت رکھتا ہے بھیجا گیا۔(ازالہ اوہام - خ - جلد 3 صفحہ 463-462) آیت استخلاف میں اللہ تعالیٰ نے صاف طور پر ایک سلسلہ خلافت قائم کرنے کا وعدہ فرمایا اور اس سلسلہ کو لے سلسلہ خلافت کے ہم رنگ قرار دیا جیسا فرمایا كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ اب اس وعدہ استخلاف کے موافق اور اس کی مماثلت کے لحاظ سے ضروری تھا کہ جیسے موسوی سلسلہ خلافت کا خاتم الخلفاء مسیح تھا ضرور ہے کہ سلسلہ محمدیہ کے خلفاء کا خاتم بھی ایک مسیح ہی ہو۔( ملفوظات جلد دوم صفحه 383) اعْلَمْ أَنَّ الْمَسِيحَ الْمَوْعُوْدَ فِي كِتَابِ اللهِ لَيْسَ هُوَ عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ صَاحِبَ الْإِنْجِيْلِ وَ خَادِمَ الشَّرِيعَةِ الْمُرْسَوِيَّةِ كَمَاظَنَّ بَعْضُ الْجُهَلَاءِ مِنَ الْفَيْحِ الْاعْوَجِ وَالْفِئَةِ الْخَاطِئَةِ۔بَلْ هُوَ خَاتَمَ الْخُلَفَاءِ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ كَمَا كَانَ عِيْسَى خَاتَمَ خُلَفَاءِ السِّلْسِلَةِ الْكَلِيْمِيَّةِ۔وَ كَانَ لَهَا كَاخِرِ اللَّبْنَةِ وَ خَاتَمَ الْمُرْسَلِيْنَ۔وَ إِنَّ هَذَا الْهُوَ الْحَقُّ فَوَيْلٌ لِلَّذِيْنَ يَقْرَءُ وْنَ الْقُرْآنَ ثُمَّ يَمُرُّونَ مُنْكِرِيْنَ۔وَ إِنَّ الْفُرْقَانَ قَدْ حَكَمَ بَيْنَ الْمُتَنَازِعِيْنَ فِي هَذِهِ الْمَسْئَلَةِ۔فَإِنَّهُ صَرَّحَ فِي سُوْرَةِ النُّوْرِ بِقَوْلِهِ مِنْكُمْ بأَنَّ خَاتَمَ الْاَئِمَّةِ مِنْ هذه الملة۔( ترجمه از اصل) جان لو کہ کتاب اللہ میں جس مسیح موعود کے آنے کا وعدہ دیا گیا ہے وہ صاحب انجیل اور خادم شریعت موسوی عیسی ابن مریم نہیں جیسا کہ فیج اعوج کے بعض جاہل لوگوں اور غلط کا فرقہ میں سے بعض نے خیال کیا ہے بلکہ وہ خاتم الخلفاء اس امت میں سے ہوگا جیسا کہ حضرت عیسی علیہ السلام خلفاء سلسلہ موسویہ کے خاتم تھے اور اس عمارت کی وہ آخری اینٹ اور اس سلسلہ کے آخری مرسل تھے اور یقیناً یہی بات سچی ہے۔ان لوگوں کے لئے ہلاکت ہے جو قرآن تو پڑھتے ہیں پھر اس سے منکروں کی طرح اعراض کرتے ہوئے گزر جاتے ہیں۔قرآن کریم نے اس مسئلہ کے بارے میں جھگڑا کرنے والوں کے درمیان فیصلہ کر دیا ہے اور مِنكُمْ کے لفظ سے سورۃ نور میں صراحت کر دی ہے کہ خاتم الآئمہ امت محمدیہ میں سے ہی ہوگا۔(خطبہ الہامیہ۔رخ۔جلد16 صفحہ 309)