حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 209 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 209

209 رُوحِنَا۔ہر ایک مومن جو تقویٰ اور طہارت میں کمال پیدا کرے وہ بروزی طور پر مریم ہوتا ہے اور خدا اس میں اپنی روح پھونک دیتا ہے جو کہ ابنِ مریم بن جاتی ہے۔زمخشری نے بھی اس کے یہی معنے کئے ہیں کہ یہ آیت عام ہے اور اگر یہ معنی نہ کئے جاویں تو حدیث شریف میں آیا ہے کہ مریم اور ابن مریم کے سوامس شیطان سے کوئی محفوظ نہیں۔اس سے لازم آتا ہے کہ نعوذ باللہ تمام انبیاء پر شیطان کا دخل تھا۔پس دراصل اس آیت میں بھی اشارہ ہے کہ ہر ایک مومن جو اپنے تئیں اس کمال کو پہنچائے۔خدا کی روح اس میں پھونکی جاتی ہے اور وہ ابنِ مریم بن جاتا ہے اور اس میں ایک پیشگوئی ہے کہ اس اُمت میں ابنِ مریم پیدا ہوگا۔تعجب ہے کہ لوگ اپنے بیٹوں کا نام محمد اور عیسی اور موسیٰ اور یعقوب اور اسحاق اور اسماعیل اور ابراہیم رکھ لیتے ہیں اور اس کو جائز جانتے ہیں پر خدا کے لئے ناجائز نہیں جانتے کہ وہ کسی کا نام عیسی یا ابن مریم رکھ دے۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 522-523) زیں سبب شد ابن مریم نامِ من زانکه مریم بود اول گام من! میرا نام ابن مریم اس لیے ہوا۔کہ مریم بنا میرا پہلا قدم تھا۔بعد ازاں ازحیح حق عیسی شدم شد ز جائے مریمی بر تر قدم پھر میں خدائی نفخ کے سبب سے عیسی ہو گیا اور مقام مریمی سے میرا قدم اونچا ہو گیا۔ایں ہمہ گفت است رب العالمین گر نے دانی برا ہیں راہیں یہ سب باتیں رب العالمین کی فرمودہ ہیں۔اگر تجھے علم نہیں تو براہین احمدیہ کو دیکھے۔( در تمین فارسی صفحہ 304) ( حقیقت الوحی۔ر۔خ۔جلد 22 صفحہ 408) إِنَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُوْلًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إلى فِرْعَوْنَ رَسُوْلاً۔(المزمل: 16) ترجمہ :۔یقینا ہم نے بھیجا تمہاری طرف رسول گواہی دینے والا تم پر جیسا کہ بھیجا ہم نے طرف فرعون کی رسول۔میں وہی ہوں جو وقت پر اصلاح خلق کے لئے بھیجا گیا تا دین کو تازہ طور پر دلوں میں قائم کر دیا جائے۔میں اسی طرح بھیجا گیا ہوں جس طرح سے وہ شخص بعد کلیم اللہ مرد خدا کے بھیجا گیا تھا جس کی روح ہیروڈلیس کے عہد حکومت میں بہت تکلیفوں کے بعد آسمان کی طرف اٹھائی گئی۔سو جب دوسرا کلیم اللہ جوحقیقت میں سب سے پہلا اور سید الانبیاء ہے دوسرے فرعونوں کی سرکوبی کے لئے آیا جس کے حق میں ہے اِنَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُوْلًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولاً سو اس کو بھی جو اپنی کارروائیوں میں کلیم اول کا مثیل مگر رتبہ میں اس سے بزرگ تر تھا ایک مثیل مسیح کا وعدہ دیا گیا اوروہ مثیل اسی قوت اور طبع اور خاصیت مسیح ابن مریم کی پا کر اس زمانہ کی مانند اور سی مدت کے قریب قریب جو کلیم اول کے زمانہ سے مسیح ابن مریم کے زمانہ تک تھی یعنی چودھویں صدی میں آسمان سے اترا اوروہ اتر ناروحانی طور پر تھا جیسا کہ مکمل لوگوں کا صعود کے بعد خلق اللہ کی اصلاح کے لئے نزول ہوتا ہے اور سب باتوں میں اسی زمانہ کے ہم شکل زمانہ میں اترا جو مسیح ابن مریم کے اترنے کا زمانہ تھا تا سمجھنے والوں کے لئے نشان ہو۔(فتح اسلام -ر خ- جلد 3 صفحہ 8)