حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 208 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 208

208 الہام میں خدا تعالیٰ نے میرا نام عیسی رکھا اور مجھے اس قرآنی پیشگوئی هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِه (الصف: 10) کا مصداق ٹھہرایا جو حضرت عیسی علیہ السلام کے لئے خاص تھی اور آنے والے مسیح موعود کے تمام صفات مجھ میں قائم کئے۔ایام اسح۔ر۔خ۔جلد 14 صفحہ 272) الصل چوں مرا نورے بئے قومے مسیحی داده اند مصلحت را ابن مریم نام من نیهاده اند چونکہ مجھے عیسائی قوم کے لیے ایک نور دیا گیا ہے۔اس وجہ سے میرا نام ابن مریم رکھا گیا۔نے درخشم چوں قمر تا بم چو قرص آفتاب کور چشم آنانکه در انکار با افتاده اند میں چاند کی طرح روشن ہوں اور آفتاب کی طرح چمکتا ہوں۔وہ اندھے ہیں جوانکار میں پڑے ہوئے ہیں۔بشنوید اے طالباں کز غیب بکنند ایں ندا مصلح باید که در هر جا مفاسد زاده اند اے طالبو! سنو غیب سے یہ آواز آرہی ہے کہ ایک مصلح درکار ہے کیونکہ ہر جگہ فساد پیدا ہو گئے ہیں۔صادقم و از طرف مولی با نشانها آمدم صد ور علم و ہدی بر روئے من بکشادہ اند میں صادق ہوں اور مولی کی طرف سے نشان لے کر آیا ہوں۔علم و ہدایت کے سینکڑوں در مجھ پر کھولے گئے ہیں۔آسمان بارد نشان الوقت میگوید زمیں ایس دوشاہد از پیئے تصدیق من استادہ اند آسمان نشان برسا رہا ہے اور زمین پکار رہی ہے کہ یہی وقت ہے میری تصدیق کے لیے یہ دو گواہ کھڑے ہیں۔در مشین فارسی مترجم صفحہ 190 - 189 ) ( آئینہ کمالات اسلام - ر - خ - جلد 5 صفحہ 358) ابن مریم ہوں مگر اترا نہیں میں چرخ سے نیز مھدی ہوں مگر بے تیغ اور بے کارزار ملک سے مجھکو نہیں مطلب نہ جنگوں سے ہے کام کام میرا ہے دلوں کو فتح کرنا نے دیار تاج و تخت ہند قیصر کو مبارک ہو مدام ان کی شاہی میں میں پاتا ہوں رفاہ روزگار مجھکو کیا ملکوں سے میرا ملک ہے سب سے جدا مجھکو کیا تاجوں سے میرا تاج ہے رضوان یار ہم تو بستے ہیں فلک پر اس زمین کو کیا کریں آسماں کے رہنے والوں کو زمین سے کیا نقار ( در نشین اردو ) ( براہین احمدیہ حصہ پنجم۔رخ۔جلد 21 صفحہ 141) وَالَّتِي اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَحْنَا فِيهَا مِنْ رُّوحِنَا وَجَعَلْنَهَا وَابْنَهَا آيَةً لِلْعَلَمِينَ) (الانبياء : 92) قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے مومن کی دو مثالیں بیان فرمائی ہیں ایک مثال فرعون کی عورت سے ہے جو کہ اس قسم کے خاوند سے خدا کی پناہ چاہتی ہے۔یہ اُن مومنوں کی مثال ہے جو نفسانی جذبات کے آگے گر جاتے ہیں اور غلطیاں کر بیٹھتے ہیں پھر پچھتاتے ہیں تو بہ کرتے ہیں خدا سے پناہ مانگتے ہیں اُن کا نفس فرعون سے خاوند کی طرح اُن کو تنگ کرتا رہتا ہے وہ لوگ نفس لوامہ رکھتے ہیں بدی سے بچنے کے لئے ہر وقت کوشاں رہتے ہیں۔دوسرے مومن وہ ہیں جو اس سے اعلیٰ درجہ رکھتے ہیں وہ صرف بدیوں سے ہی نہیں بچتے بلکہ نیکیوں کو حاصل کرتے ہیں۔اُن کی مثال اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم سے دی ہے اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهَا مِنْ