حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 207
207 اسموا صوت السماء جاء المسيح جاء المسيح نیز بشنو از زمین آمد امام کامگار آسمان بار و نشاں الوقت مے گوید زمیں اس دوشاہد از پئے من نعرہ زن چوں بے قرار اب اسی گلشن میں لوگو راحت و آرام ہے وقت ہے جلد آؤ اے آوارگان دشت خار اک زماں کے بعد اب آئی ہے یہ ٹھنڈی ہوا پھر خدا جانے کہ کب آویں یہ دن اور یہ بہار ( در شین اردو صفحه 131-130 ) ( براہین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 21 صفحہ 132) ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلاً لِلَّذِيْنَ كَفَرُوا امْرَأَتَ نُوحٍ وَامْرَأَتَ لُوطٍ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَيْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَيْنِ فَخَانَتْهُمَا فَلَمْ يُغْنِيَا عَنْهُمَا مِنَ اللهِ شَيْئًا وَقِيْلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدُّخِلِيْنَ۔وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلاً لِلَّذِيْنَ آمَنُوا امْرَأَتَ فِرْعَوْنَ إِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَنَجِّنِي مِنْ فِرْعَوْنَ وَ عَمَلِهِ وَنَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّلِمِيْنَ۔وَ مَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَحْنَا فِيْهِ مِنْ رُّوْحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمَتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهِ وَكَانَتْ مِنَ الْقِنِتِينَ۔(التحريم : 11تا13) أَنْظُرُوا كَيْفَ ضَرَبَ اللهُ مَثَلَ مَرْيَمَ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ۔فِي هَذِهِ السُّوْرَةِ۔وَ وَعَدَ فِي هَذِهِ الْحُلَّةِ أَنَّ ابْنَ مَرْيَمَ مِنْكُمْ عِنْدَ التَّقَاةِ الْكَامِلَةِ۔وَكَانَ مِنَ الْوَاجِبِ لِتَحْقِيقِ هَذَا الْمَثَلِ الْمَذْكُوْرِ فِي هذِهِ الْآيَةِ۔بِأَنْ يَكُوْنَ فَرْدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ۔لِيَتَحَقَّقَ الْمَثَلُ فِي الْخَارِجِ مِنْ غَيْرِ الشَّيِّ وَالشُّبْهَةِ۔وَإِلَّا فَيَكُوْنُ هذَا الْمَثَلُ عَبَنَّا وَكِذَّبًا لَيْسَ مِصْدَاقُهُ فَرْدًا مِنْ أَفْرَادِ هذِهِ الْمِلَّةِ وَ ذَلِكَ مِمَّا لَا يَلِيْقُ بِشَانٍ حَضْرَةِ التَّقَدُّسِ وَالْعِزَّةِ۔ترجمه از مرتب :۔دیکھو اللہ تعالٰی نے اس سورت میں کس طرح مریم علیہا السلام کی مثال اس امت کے لئے بیان کی ہے اور اس لباس میں وعدہ فرمایا ہے کہ ابن مریم کامل متقیوں کے نزدیک تمہیں میں سے ہوگا۔اس آیت میں مثال مذکورہ کے متحقق ہونے کے لئے ضروری تھا کہ اسی امت کا ایک فرد عیسی بن مریم ہوتا۔یہ مثال خارج میں بھی بلا شک وشبہ متفق ہو ورنہ یہ مثال عبث اور جھوٹ ہوگی جس کا مصداق اس امت کے افراد میں سے کوئی نہیں ہوگا اور یہ ایسی بات ہے جو خدائے قدوس اور رب العزت کی شان کے شایاں نہیں۔(خطبہ الہامیہ۔۔۔خ۔جلد 16 صفحہ 310) الہام حضرت اقدس جَعَلْنَاكَ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ۔ہم نے تجھ کو سیح ابن مریم بنایا۔ان کو کہدے کہ میں عیسی کے قدم پر آیا ہوں۔( تذکرہ صفحہ 185) ایسے شخص کو جو مریکی صفت سے محض خدا کے نفخ سے عیسوی صفت حاصل کرنے والا تھا اس کا نام سورۃ تحریم میں ابن مریم رکھ دیا ہے کیونکہ فرمایا ہے کہ جبکہ مثالی مریم نے بھی تقویٰ اختیار کیا تو ہم نے اپنے طرف سے روح پھونک دی اس میں اشارہ تھا کہ مسیح ابن مریم میں کلمتہ اللہ ہونے کی کوئی خصوصیت نہیں بلکہ آخری مسیح بھی کلمتہ اللہ ہے اور روح اللہ بھی بلکہ ان دونوں صفات میں وہ پہلے سے زیادہ کامل ہے جیسا کہ سورت تحریم اور سورت فاتحہ اور سورۃ النور اور آیت كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ (ال عمران: 111) سے سمجھا جاتا ہے۔( تریاق القلوب -ر-خ- جلد 15 صفحہ 484)