حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 187 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 187

187 غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِينَ دعا کے اعتبار سے حضرت اقدس کا ذکر یاد رکھو اور خوب یاد رکھو کہ سورۃ فاتحہ میں صرف دو فتنوں سے بچنے کے لئے دعا سکھلا ئی گئی ہے۔(1) اول یہ فتنہ کہ اسلام کے مسیح موعود کو کا فرقرار دینا۔اس کی توہین کرنا۔اس کی ذاتیات میں نقص نکالنے کی کوشش کرنا۔اس کے قتل کا فتویٰ دینا۔جیسا کہ آیت غَيْر الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ میں انہی باتوں کی طرف اشارہ ہے(2) دوسرے نصاری کے فتنے سے بچنے کے لئے دعا سکھلائی گئی اور سورۃ کو اسی کے ذکر پر ختم کر کے اشارہ کیا گیا ہے کہ فتنہ نصاری ایک سیل عظیم کی طرح ہوگا اس سے بڑھ کر کوئی فتنہ نہیں۔(تحفہ گولڑویہ۔رخ جلد 17 صفحہ (212) پس دعا کے رنگ میں یہ ایک پیشگوئی ہے جو دو خبر پر مشتمل ہے۔ایک یہ کہ اس امت میں بھی ایک مسیح موعود پیدا ہوگا۔اور دوسری یہ پیشگوئی ہے کہ بعض لوگ اس امت میں سے بھی اس کی تکفیر اور توہین کریں گے اور وہ لوگ مورد غضب الہی ہوں گے اور اس وقت کا نشان یہ ہے کہ فتنہ نصاریٰ بھی ان دونوں حد سے بڑھا ہوا ہو گا جن کا نام ضالین ہے اور ضالین پر بھی یعنی عیسائیوں پر بھی اگر چہ خدا تعالیٰ کا غضب ہے کہ وہ خدا کے حکم کے شنوا نہیں ہوئے مگر اس غضب کے آثار قیامت کو ظاہر ہوں گے اور اس جگہ مغضوب علیہم سے وہ لوگ مراد ہیں جن پر بوجہ تکفیر و تو ہین وایذا ارادہ قتل مسیح موعود کے دنیا میں ہی غضب الہی نازل ہوگا یہ میرے جانی دشمنوں کے لئے قرآن کی پیشگوئی ہے۔(تحفہ گولڑویہ۔رخ جلد 17 صفحہ 213) یہ جو اللہ تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ میں فرمایا ہے کہ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِينَ۔اس میں ہم نے غور کیا تو معلوم ہوتا ہے کہ آنے والے شخص میں دو قسم کی صفات کی ضرورت ہے۔اول تو عیسوی صفات اور دوم محمدی صفات کی کیونکہ مغضوب علیہم سے مراد یہود اور الضالین سے مراد نصاری ہیں۔جب یہود نے شرارت کی تھی تو حضرت عیسی" ان کے واسطے آئے تھے جب نصاری کی شرارت زیادہ بڑھ گئی تو آنحضرت ﷺ تشریف آور ہوئے تھے اور یہاں خدا تعالیٰ نے دونوں کا فتنہ جمع کیا اندرونی یہود اور بیرونی نصاری جن کے لئے آنے والا بھی آنحضرت ﷺ کا کامل بروز اور حضرت عیسی کا پورا نقشہ ہونا چاہیئے تھا۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 296) چونکہ خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ آخری زمانہ میں اسی اُمت میں سے مسیح موعود آئے گا۔اور بعض یہودی صفت مسلمانوں میں سے اس کو کا فرقرار دیں گے اور اس کو قتل کے درپے ہوں گے اور اس کی سخت توہین و تکفیر کریں گے اور نیز جانتا تھا کہ اس زمانہ میں تثلیث کا مذہب ترقی پر ہوگا اور بہت سے بدقسمت انسان عیسائی ہو جائیں گے اس لئے اس نے مسلمانوں کو یہ دعا سکھلائی اور اس دعا میں مَغضُوبِ عَلَيْهِمُ کا جو لفظ ہے وہ بلند آواز سے کہہ رہا ہے کہ وہ لوگ جو اسلامی مسیح کی مخالفت کریں گے وہ بھی خدا تعالیٰ کی نظر میں مغضوب علیہم ہوں گے جیسا کہ اسرائیلی سیح موعود کے مخالفت مغضوب علیہم تھے۔( نزول المسیح۔رخ جلد 18 صفحہ 419)