حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page xx
xvii اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس پر جو معارف قرآن کی عنایت خاص کی ہے اس کے عالی مرتبہ منصب کے بیان میں ذیل کے فرامین بہت اہمیت رکھتے ہیں۔اول تو آپ کا الہام باری تعالیٰ۔اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ ہے۔(حقیقۃ الوحی۔ر۔خ۔جلد 22 صفحہ 73) اس کا ترجمہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔” خدا نے تجھے قرآن سکھلایا یعنی اس کے صحیح معنی تجھ پر ظاہر کئے۔“ اور اسی مضمون میں فرماتے ہیں۔قرآن شریف کے لئے تین تجلیات ہیں۔وہ سیدنا حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے نازل ہوا اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے ذریعہ سے اس نے زمین پر اشاعت پائی اور مسیح موعود کے ذریعہ سے بہت سے پوشیدہ اسرار اس کے کھلے۔وَلِكُلّ اَمْرٍ وَقْتُ مَّعْلُومٌ۔اور جیسا کہ آسمان سے نازل ہو اتھا ویسا ہی آسمان تک اس کا نور پہنچا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں اس کے تمام احکام کی تکمیل ہوئی اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے وقت میں اس کے ہر ایک پہلو کی اشاعت کی تکمیل ہوئی اور مسیح موعود کے وقت میں اس کے روحانی فضائل اور اسرار کے ظہور کی تکمیل ہوئی۔منہ“ ( براہین احمدیہ۔رخ - جلد 21 صفحہ 66 حاشیہ) اس مقام تک یہ امور تو واضح ہو گئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو عظیم المرتبہ عرفان قرآن آپ کو عطا کیا گیا ہے ان کا مقصد وہ خدمات دینیہ ہیں جن کو سرانجام دینے کے لئے آنحضرت کی روحانیت نے آپ کا انتخاب کیا ہے۔اور یہ امر بھی واضح ہو گیا کہ یہ خدمات قرآنیہ آپ کے دعاوی کی صداقت کو ثابت کر کے ہی سرانجام دی جاسکتی ہیں۔سنت اللہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے پیغام لانے والے کے دعاوی کی صداقت اس پیغام کی صداقت پر گواہ ہوتی ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ کے کلام کا حقیقی فہم اور اس کی تعلیم کا کامل ادراک مرسلین باری تعالیٰ کے درس ارشاد اور اسوہ حسنہ سے ہی حاصل ہوتا ہے۔جیسا کہ فرماتے ہیں۔* وَقَالُوا إِلَى الْمَوْعُودِ لَيْسَ بِحَاجَةٍ فَإِنَّ كِتَابَ اللَّهِ يَهْدِى وَ يُخْبِرُ وَمَا هِيَ إِلَّا بِالْغُيُورِ دَعَابَةٌ فَيَا عَجَبًا مِّنْ فِطْرَةٍ تَتَهَوَّرُ وَقَدْ جَاءَ قَوْلُ اللهِ بِالرُّسُل تَوْمًا وَ مِنْ دُونِهِمْ فَهُمُ الْهُدَى مُتَعَـــر ضمیمه نزول مسیح - ر-خ- جلد 19 صفحہ 173-172) اور انہوں نے کہا کہ مسیح موعود کی طرف کچھ حاجت نہیں۔کیونکہ اللہ کی کتاب ہدایت دیتی اور خبر دیتی ہے۔اور یہ تو خدائے غیور کے ساتھ ہنسی ٹھٹھا ہے۔پس ایسی بیباک فطرتوں پر تعجب آتا ہے۔* اور اصل حقیقت یہ ہے کہ خدا کا کلام اور رسول با ہم تو ام ہیں۔اور ان کے بغیر خدا کے کلام کا سمجھنا مشکل ہے۔