حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 168 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 168

168 اگر یہ کہا جائے کہ اس امت پر قیامت تک دروازہ مکالمہ مخاطبہ اور وحی الہی کا بند ہے تو پھر اس صورت میں کوئی امتی نبی کیوں کر کہلا سکتا ہے کیونکہ نبی کے لیے ضروری ہے کہ خدا اس سے ہم کلام ہو تو اس کا یہ جواب ہے کہ اس امت پر یہ دروازہ ہرگز بند نہیں ہے۔اور اگر اس امت پر یہ دروازہ بند ہوتا تو یہ امت ایک مردہ امت ہوتی اور خدا تعالیٰ سے دور اور مجبور ہوتی اور اگر یہ دروازہ اس امت پر بند ہوتا تو کیوں قرآن میں یہ دعا سکھلائی جاتی کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ - (براہین احمدیہ حصہ پنجم۔رخ جلد 21 صفحہ 353) پس اے ست اعتقاد واور کمزور ہمتو گیا تمہیں یہ خیال ہے کہ تمہارے خدا نے جسمانی طور پر تو بنی اسرائیل کے تمام املاک کا تمہیں قائم مقام کر دیا۔مگر روحانی طور پر تمہیں قائم مقام نہ کر سکا بلکہ خدا کا تمہاری نسبت اس سے زیادہ فیض رسانی کا ارادہ ہے خدا نے ان کے روحانی جسمانی متاع و مال کا تمہیں وارث بنایا مگر تمہارا وارث کوئی دوسرا نہ ہو گا جب تک قیامت آجاوے۔خدا تمہیں نعمت وحی اور الہام اور مکالمات اور مخاطبات الہیہ سے ہرگز محروم نہیں رکھے گا۔وہ تم پر وہ سب نعمتیں پوری کرے گا جو پہلوں کو دی گئیں۔۔۔۔سو تم صدق اور راستی اور تقویٰ اور محبت ذاتیہ الہیہ میں ترقی کرو اور اپنا کام یہی سمجھو جب تک زندگی ہے پھر خدا تم میں سے جس کی نسبت چاہے گا اس کو کشتی نوح - رخ جلد 19 صفحہ 27) کوئی پادری تو میرے سامنے لاؤ جو یہ کہتا ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی پیشگوئی نہیں کی۔☆ یا درکھو وہ زمانہ مجھ سے پہلے ہی گذر گیا اب وہ زمانہ آ گیا جس میں خدا یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ وہ رسول محمد عربی جس کو گالیاں دی گئیں۔جس کے نام کی بے عزتی کی گئی۔جس کی تکذیب میں بدقسمت پادریوں نے کئی لاکھ کتا ہیں اس زمانہ میں لکھ کر شائع کر دیں۔وہی سچا اور سچوں کا سردار ہے۔اس کے قبول میں حد سے زیادہ انکار کیا گیا۔مگر آ خراسی رسول کو تاج عزت پہنایا گیا۔اس کے غلاموں اور خادموں میں سے ایک میں ہوں۔جس سے خدا مکالمہ مخاطبہ کرتا ہے اور جس پر خدا کے غیوں اور نشانوں کا دروازہ کھولا گیا ہے۔(حقیقۃ الوحی۔رخ۔جلد 22 صفحہ 286 ) حمد اس کے متعلق ایک الہامی شعر بھی ہے جو یہ ہے۔برتر گمان و وہم سے احمد کی شان ہے جس کا غلام دیکھو مسیح الزمان ہے (حقیقۃ الوحی۔رخ جلد 22 صفحہ 286 حاشیہ ) اَنْعَمْتَ عَلَيْهِم سے مراد حضرت اقدس اور ان کی جماعت ہے یا درکھنا چاہیئے کہ اس اُمت کے لیے مخاطبات اور مکالمات کا دروازہ کھلا ہے۔اور یہ دروازہ گویا قرآن مجید کی سچائی اور آنحضرت ﷺ کی سچائی پر ہر وقت تازہ شہادت ہے اور اس کے لیے خدا تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ ہی میں یہ دعا سکھائی ہے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ أنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ کی راہ کے لیے جو دعا سکھائی تو اس میں انبیاء علیہ السلام کے کمالات کے حصول کا اشارہ ہے اور یہ ظاہر ہے کہ انبیاء علیہ السلام کو جو کمال دیا گیا وہ معرفت الہی ہی کا کمال تھا اور یہ نعمت ان کو مکالمات اور مخاطبات سے ملی تھی اسی کے تم بھی خواہاں ہو۔(لیکچر لدھیانہ۔رخ جلد 20 صفحہ 286)