حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 167 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 167

167 ہر زمانے میں خدا تعالیٰ کے کلام کے زندہ ثبوت موجود ہوتے ہیں افسوس ان لوگوں کی عقلوں کو کیا ہوا یہ کیوں نہیں سمجھتے ؟ کیا قرآن میں جواهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ (الفاتحہ: 6-7) تھا یہ یونہی ایک بے معنی اور بے مطلب بات تھی۔اور نرا ایک قصہ ہی قصہ ہے؟ کیا وہ انعام کچھ نہ تھا خدا نے نرا دھوکا ہی دیا ہے؟ اور وہ اپنے بچے طالبوں اور صادقوں کو بدنصیب ہی رکھنا چاہتا ہے؟ کس قدر ظلم ہے اگر یہ خدا کی نسبت قرار دیا جائے کہ وہ نری لفاظی سے ہی کام لیتا ہے۔حقیقت یہ نہیں ہے یہ ان لوگوں کی اپنی خیالی باتیں ہیں قرآن شریف در حقیقت انسان کو ان مراتب اور اعلیٰ مدارج پر پہنچانا چاہتا ہے جو انعَمتَ عَلَيْهِمْ کے مصداق لوگوں کو دیئے گئے تھے اور کوئی زمانہ ایسا نہیں ہوتا جب کہ خدا تعالیٰ کے کلام کے زندہ ثبوت موجود نہ ہوں۔ہمارا یہ مذہب ہر گز نہیں کہ آریوں کی طرح خدا کا پریمی اور بھگت کتنی ہی دعائیں کرے اور رو رو کر اپنی جان کھوئے اور اس کا کوئی نتیجہ نہ ہو اسلام خشک مذہب نہیں ہے اسلام ہمیشہ ایک زندہ مذہب ہے اور اس کے نشانات اس کے ساتھ ہیں پیچھے رہے ہوئے نہیں۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 550) ہے غضب کہتے ہیں اب وحی خدا مفقود ہے اب قیامت تک ہے اس اُمت کا قصوں پر مدار عقیده برخلاف گفته دادار ہے! پر اُتارے کون برسوں کا گلے سے اپنے ہار وہ خدا اب بھی بناتا ہے جسے چاہے کلیم اب بھی اُس سے بولتا ہے جس سے وہ کرتا ہے پیار تور دل جاتا رہا اک رسم دیں کی رہ گئی پھر بھی کہتے ہیں کہ کوئی مصلح دیں کیا بکار راگ وہ گاتے ہیں جس کو آسماں گاتا نہیں وہ ارادے ہیں کہ جو ہیں برخلاف شہر یار (براہین احمدیہ حصہ پنجم۔رخ جلد 21 صفحہ 137) اصلی نعمت ( جس پر قوت ایمان اور اعمال صالحہ موقوف ہیں ) خدا تعالیٰ کا مکالمہ اور مخاطبہ ہے جس کے ذریعہ سے اول اس کا پتہ لگتا ہے اور پھر اس کی قدرتوں سے اطلاع ملتی ہے اور پھر اس اطلاع کے موافق انسان ان قدرتوں کو بچشم خود دیکھ لیتا ہے۔یہی وہ نعمت ہے جو انبیاء علیہم السلام کو دی گئی تھی اور پھر اس امت کو حکم ہوا کہ اس نعمت کو تم مجھ سے مانگو کہ میں تمہیں بھی دوں گا۔۔۔۔خدا تعالیٰ کا مکالمہ اور مخاطبہ یہی تو ایک جڑ ہے معرفت کی اور تمام برکات کا سرچشمہ ہے۔اگر اس امت پر یہ دروازہ بند ہوتا تو سعادت کے تمام دروازے بند ہوتے۔چ گار ہو ضمیمہ براہین احمدیہ۔رخ جلد 21 صفحہ 308 309 ) ہے کہ جو پاک ہو جاتے ہیں خدا سے خدا کی خبر لاتے ہیں اگر اُس طرف سے نہ آوے خبر تو ہو جائے راه زیر و زبر جائیں اُس کے تباہ وہ مر جائیں دیکھیں اگر بند راہ ایسا نہیں کہ عاشق سے رکھتا ہو یہ بغض و کیں کہ وہ راحم و عالم الغیب ہے در مشین اردو - نیا ایڈیشن صفحہ 21 ست بچن - رخ جلد 10 صفحہ 166) مگر کوئی معشوق خدا تو پھر پر گماں عیب ہے