حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 166
166 کمالات کی طلب ہے نبیوں کا عظیم الشان کمال یہ ہے کہ وہ خدا سے خبریں پاتے ہیں۔چنانچہ قرآن شریف میں آیا ب فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبَةٍ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولِ (الجن :27-28) یعنی خدا تعالیٰ کے غیب کی باتیں کسی دوسرے پر ظاہر نہیں ہوتیں ہیں ہاں اپنے نبیوں میں سے جس کو وہ پسند کرے۔جولوگ نبوت کے کمالات سے حصہ لیتے ہیں اللہ تعالیٰ اُن کو قبل از وقت آنے والے واقعات کی اطلاع دیتا ہے اور یہ بہت بڑا عظیم الشان نشان خدا کے مامور اور مرسلوں کا ہوتا ہے اس سے بڑھ کر اور کوئی معجزہ نہیں۔کمالات امامت کا راہ ہمیشہ کے لیے کھلا ہے ( ملفوظات جلد اول صفحہ 274) اگر یہی سچ ہے کہ خدا تعالیٰ تمام برکتوں اور امامتوں اور ولا تیوں پر مہر لگا چکا ہے اور آئندہ بکلی وہ راہیں بند ہیں تو خدا تعالیٰ کے بچے طالبوں کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی دل توڑنے والا واقعہ نہ ہوگا گویا وہ جیتے ہی مرگئے اور ان کے ہاتھ میں بجز چند خشک قصوں کے اور کوئی مغز اور بات نہیں اور اگر شیعہ لوگ اس عقیدہ کو سچ مانتے ہیں تو پھر کیوں پنج وقت نماز میں یہ دعا پڑھتے ہیں اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کیونکہ اس دعا کے تو یہ معانی ہیں کہ اے خدائے قادر ہم کو وہ راہ اپنے قرب کا عنایت کر جو تو نے نبیوں اور اماموں اور صدیقوں اور شہیدوں کو عنایت کیا تھا۔پس یہ آیت صاف بتلاتی ہے کہ کمالات امامت کا راہ ہمیشہ کے لیے کھلا ہے اور ایسا ہی ہونا چاہیئے تھا اس عاجز نے اسی راہ کے اظہار ثبوت کے لیے بیس ہزار اشتہار مختلف دیار وامصار میں بھیجا ہے۔اگر یہ برکت نہیں تو پھر اسلام میں فضلیت ہی کیا ہے۔( 1 ) مکتوبات احمد جلد 5 نمبر 5 صفحہ 2-3 مکتوب نمبر 1 ) (2) اصحاب احمد جلد دوم صفحہ 50 سوانح حضرت نواب محمد علی خان صاحب ) چوں گمانے کنم اینجا مدد روح قدس که مرا در دل شاں دیو نظر می آید میں یہاں روح القدس کی مدد کا گمان کیونکر کر سکتا ہوں کہ مجھے تو ان کے دل میں دیو بیٹھا ہوا نظر آتا ہے۔این مدد هاست در اسلام چو خورشید عیاں کہ بہر عصر مسیحائے دگر می آید اسلام میں یہ امدا د سورج کی طرح ظاہر ہے کہ ہر زمانہ کے لیے نیا مسیحا آتا ہے۔سرمه چشمه آریہ - رخ جلد 2 صفحہ 287 حاشیہ) یاد رکھو کہ خدا کے فیوض بے انتہا ہیں جو ان کو محدود کرتا ہے۔وہ اصل میں خدا کو محدود کرتا ہے۔اور اس کی کلام کو عبث قرار دیتا ہے وہی بتلا دے کہ اھدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں جب وہ انہی کمالات اور انعامات کو طلب کرتا ہے جو کہ سابقین پر ہوئے تو اب ان کو محدود کیسے مانتا ہے اگر وہ محدود ہیں اور بقول شیعہ بارہ امام تک ہی رہے تو پھر سورۃ فاتحہ کونماز میں کیوں پڑھتا ہے وہ تو اس کے عقیدے کے خلاف تعلیم کر رہی ہے۔اور خدا کو ملزم گر دانتی ہے کہ ایک طرف تو وہ خود ہی کمالات کو بارہ امام تک ختم کرتا ہے اور پھر لوگوں کو قیامت تک ان کے طلب کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔دیکھو مایوس ہونا مومن کی شان نہیں ہوتی اور ترقیات اور مراتب قرب کی کوئی حد بست نہیں ہے یہ بڑی غلطی ہے کہ کسی فرد خاص پر ایک بات قائم کر دی جائے۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 64)