حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 158
158 ہدایت کی اقسام وَكَذَالِكَ عَلَّمَ اللهُ عِبَادَهُ دُعَاءَ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ط وَمَعْلُومٌ أَنَّ مِنْ أَنواع الهدَايَةِ كَشَفْ وَالْهَامٌ وَرُؤْيَا صَالِحَةٌ وَّمَكَالَمَاتٌ وَّمُخَاطَبَاتٌ وَتَحْدِيث لِيَنْكَشِفَ بِهَا غَوَامِضَ الْقُرْآنِ وَيَزْدَادَ الْيَقِينُ - بَلْ لَّا مَعْنَى لِلْإِنْعَامِ مِنْ غَيْرِ هَذِهِ الْفُيُوْضِ السَّمَاوِيَّةِ فَإِنَّهَا أَصْلُ الْمَقَاصِدِ لِلصَّالِكِينَ الَّذِينَ يُرِيدُونَ أَن تَنْكَشِفَ عَلَيْهِمْ دَفَائِقُ الْمَعْرِفَةِ وَيَعْرِفُوْارَبَّهُمْ وَيَعْرِفُوا رَبَّهُمْ فِي هَذِهِ الدُّنْيَا وَيَزْدَادُوا حُبًّا وَّايْمَانًا يَصِلُوا مَحْبُوْبَهُمْ مُّتَبَيِّلِيْنَ فَلَا جُلٍ ذَالِكَ حَبَّ اللَّهُ عِبَادَةَ عَلى أَن يَطْلُبُوا هَذَا الْإِنْعَامَ مِنْ حَضْرَتِهِ فَإِنَّهُ كَانَ عَلِيمًا بِمَا فِي قُلُوبِهِمْ مِّنْ عَطَشِ الْوِصَالِ وَالْيَقِينِ وَالْمَعْرِفَةِ فَرَحِمَهُمْ وَأَعَدَّ كُلَّ مَعْرِفَةٍ لِلطَّالِبِينَ ثُمَّ أَمَرَهُمُ لِيَطْلُبُوهَا فِي الصَّبَاحِ وَالْمَسَاءِ وَاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَمَا أَمَرَهُمُ الَّا بَعْدَ مَارَضِيَ بِاِعْطَاءِ هَذِهِ النَّعْمَاءِ بَلْ بَعْدَ مَا قَدَّرَلَهُمْ أَنْ يُرْزَقُوا مِنْهَا وَبَعْدَمَا جَعَلَهُمْ وَرَثَاءَ الْأَنْبِيَاءِ الَّذِينَ أُوتُوا مِنْ قَبْلِهِمْ كُلَّ نِعْمَةِ الْهِدَايَةِ عَلَى طَرِيقِ الْإِصَالَةِ فَانُظُرُ كَيْفَ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنَا وَأَمَرَنَا فِى أُمِّ الْكِتَابِ لِنَطْلُبَ فِيهِ هِدَايَاتِ الْأَنْبِيَاءِ كُلَّهَا لِيَكْشِفَ عَلَيْنَا كُلَّمَا كَشَفَ عَلَيْهِمْ وَلَكِن بِالْإِنْبَاعِ وَالطَّلِيَّةِ وَعَلَى قَدَرِ ظُرُونِ الْإِسْتِعْدَادَاتِ وَالْهِمَمِ فَكَيْفَ نَرُدُّ نِعْمَةَ اللَّهِ الَّتي أُعِدَّتْ لَنَا إِنْ كُنَّا طُلَبَاءَ الْهَدَايَةِ وَكَيْفَ تُنْكِرُهَا بَعْدَ مَا أُخْبِرُنَا عَنْ أَصْدَقِ الصَّادِقِينَ ترجمه از مرتب : اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ کی دعا سکھائی ہے۔اور یہ بات واضح ہے کہ ہدایت کی اقسام میں کشف، الہام، رؤیا صالحہ، مکالمات و مخاطبات اور محدثیت شامل ہیں تا کہ ان کے ذریعہ قرآن کریم کے اسرار کھلیں اور یقین بڑھے۔ان آسمانی فیوض کے سوا انعام کے اور کوئی معنے نہیں۔کیونکہ یہ چیزیں اُن سالکوں کا اصل مقصد ہیں۔جو چاہتے ہیں کہ ان پر معرفت الہی کے دقائق کھلیں اور وہ اپنے رب کو اسی دنیا میں پہچان لیں۔محبت اور ایمان میں ترقی کریں۔اور دنیا سے منہ موڑ کر اپنے محبوب کا وصال حاصل کر لیں۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اس بات کی ترغیب دلائی ہے کہ وہ اس کی بارگاہ سے یہ انعام طلب کیا کریں کیونکہ وہ ( اللہ ) ان کے دلوں میں وصال اور یقین اور معرفت کے حصول کی جو پیاس ہے اسے خوب جانتا ہے پس اس نے ان پر رحم کیا اور اپنے طالبوں کے لئے ہر قسم کی معرفت تیار کی۔پھر ان ( طالبوں ) کو حکم دیا کہ وہ صبح و شام اور رات اور دن معرفت طلب کرتے رہیں اور اس نے انہیں یہ حکم تبھی دیا جب وہ خود ان نعمتوں کے عطا کرنے پر راضی تھا۔بلکہ اس بات کا فیصلہ کر لیا تھا کہ انہیں ان ( نعمتوں) میں سے ( کچھ حصہ ضرور ) دیا جائے گا اور انہیں ان نبیوں کا وارث بنانا مقدر کیا جنہیں ان سے پہلے براہ راست ہدایت کی ہر نعمت دی گئی تھی۔پس دیکھئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر